خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۷ء خارج سمجھتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں“۔اب میرے الفاظ کو غور سے پڑھو اور دیکھو کہ میں نے یہ نہیں لکھا کہ آپ کو میں جماعت سے خارج کرتا ہوں بلکہ یہ لکھا کہ آپ کو جماعت سے خارج سمجھتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔پس میں نے ان کے خروج کا صرف اعلان کیا ہے ورنہ وہ اُس وقت سے جماعت سے خارج تھے جب سے ان کے دل میں وہ خیالات پیدا ہوئے جن کا انہوں نے اپنے خطوط میں اظہار کیا ہے۔اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا کسی کیلئے مشکل ہو۔ایک شخص ہمارے پاس آئے اور کہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے تھے ، ان پر وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوتی تھی بلکہ افترا کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے اور پھر کہے خدا کے فضل سے میں احمدی ہوں تو اُس کا یہ دعوی کس قدر جھوٹا ہوگا۔اسی طرح ایک شخص جو جماعت کے امام اور خلیفہ کی نسبت نا پاک خیالات کی اپنے دل میں رکھتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں جماعت میں شامل ہوں وہ اپنے دعوی میں یقینا جھوٹا ہے بلکہ وہ اُسی وقت سے جماعت سے علیحدہ ہے جب سے اس نے ایسے خیالات اپنے دل میں رکھنے شروع کئے۔اب ایک طرف انہیں علم کا دعوی ہے اور دوسری طرف اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جب وہ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہتے ہیں کہ میں آپ کی بجائے کوئی اور خلیفہ جماعت سے منتخب کراؤں گا تو اس کی کے بعد ایک منٹ کیلئے بھی انہیں یہ خیال کس طرح پیدا ہوا کہ میں ابھی جماعت میں شامل ہوں۔پس ۲۱ میں میرے نکالنے یا نہ نکالنے کا کوئی سوال نہیں۔جب میری نسبت انہوں نے اس قسم کے خیالات ظاہر کرنے شروع کر دیئے تو میری نگاہ میں وہ اُسی وقت میری بیعت سے نکل گئے تھے۔اگر محمد اللہ اپنے کی آپ کو سچا سمجھتے ہیں اور یقینا بچے ہیں تو جس وقت کوئی شخص کہے گا آپ جھوٹے ہیں وہ اُسی وقت ان کی کی نگاہ میں اور ہر مومن کی نگاہ میں مسلمان نہیں رہے گا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کی کو سچا سمجھتے ہیں اور وہ یقینا سچے ہیں تو جس وقت کوئی شخص کہے گا کہ آپ جھوٹے ہیں وہ اُسی وقت آپ کی نگاہ میں اور ہر مومن کی نگاہ میں احمدیت سے نکل جائے گا۔اسی طرح اگر ایک امام اور خلیفہ اپنے آپ کو سچا سمجھتا ہے تو جس وقت کوئی شخص اس امام اور خلیفہ کی نسبت کہے گا کہ وہ خلافت کا اہل نہیں تو وہ اسی وقت اس کی بیعت سے الگ ہو جائے گا۔پس اول تو اس میں اعلان کرنے یا نہ کرنے کا کوئی سوال ہی ہے نہیں تھا مجھے خود اعلان کرنے کی ضرورت نہ تھی لیکن جو اعلان میں نے کیا ہے اس کا بھی ہرگز وہ مفہوم نہیں