خطبات محمود (جلد 18) — Page 197
خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۳۷ء ایک مومن کی شان سے بعید ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ انسان جو خالی دعا کرتا اور تدبیر سے کام نہیں لیتا وہ خدا تعالیٰ کا امتحان لیتا ہے اور یہ سخت گستاخی ہے جس کی اُس کو سزا ملتی ہے۔پس مِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ ان پر فرض ہوتا ہے کہ وہ تمام ذرائع کو خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی استعمال کریں۔پھر فرمایا وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمُ يُوقِنُونَ اس سے پہلے وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ میں یہ بتایا تھا کہ جو کچھ مومنوں کو حاصل ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے اور تمام تدابیر سے کام لیتے ہیں اور اس آیت میں ان کو تدبیر بتاتا ہے ނ یعنی یہ کہ وہ کن اصول پر خرچ کرتے ہیں۔اس کے متعلق فرمایا یہ ذرائع ان کو خدا تعالیٰ کے الہاموں سے ملتے ہیں اور اس کیلئے سب سے پہلے وہ تیری وحی کو دیکھتے ہیں۔وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ اور پھر اس وحی پر غور کرتے ہیں جو تجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہے اور اس کے بعد اگر خودان پر کوئی وحی نازل ہوئی ہو یا ج کوئی خواب آیا ہو یا ان کے زمانہ کے کسی مرسل پر وحی نازل ہوئی ہو جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ی اس زمانہ میں وحی نازل ہوئی تو وہ اس وحی پر بھی غور کرتے ہیں اور اس طرح تینوں وحیوں میں یہ تلاش کرتے ہیں کہ ایسے مواقع پر ان کیلئے کیا ہدایات ہیں اور کن ذرائع کو انہیں اختیار کرنا چاہئے۔أُولئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ فرماتا ہے جو لوگ اس قسم کے ہوں ان کیلئے قرآن کریم ہدایت کا موجب ہو جاتا ہے۔اس رکوع کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ قرآن كريم متقیوں کیلئے ہدایت کا موجب ہے اور اس آیت میں یہ بتایا کہ جولوگ قرآن کریم کے اصول اور اس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کرتے ہیں ان کو یہ ہدایت مل جاتی ہے اور خالی انہیں ہدایت ہی نہیں ملتی ج بلکہ عَلى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمُ ہدایت سے ان کا اس طرح تعلق ہو جاتا ہے جس طرح گھوڑے پر انسان سوار ہوتا ہے۔گویا اس کے بعد ہدایت سے ان کا عارضی تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ ہدایت پر سوار کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور خدا کا کلام انہیں کامیابیوں کی طرف لئے چلا جاتا ہے۔وَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے کلام پر عمل کرتے اور اس کی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں ان کو کون نا کام کر سکتا ہے۔وہ بہر حال کامیاب ہوتے ہیں اور کوئی