خطبات محمود (جلد 18) — Page 140
خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۷ء دوسرا مقام بعض انسانوں کا وہ ہوتا ہے جبکہ وہ شیطان سے لڑائی کر رہا ہوتا ہے۔اُس وقت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ خدایا ! مجھے صراط مستقیم پر قائم رکھ۔وہ ان خطرات کو محسوس کرتا ہے جو اُسے روز پیش آتے ہیں۔لہذا اِس دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ ہر وقت انسان کے ساتھ ایسی چیزیں لگی ہوئی ہیں جو اس کے ایمان ، تقومی، دین کی خدمت کی خواہش اور محبت الہی کو کم کر رہی ہیں لہذا اسے ان سے محفوظ رہنے کیلئے دعا کی ضرورت ہے۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس بات میں مارے جاتے ہیں کہ وہ خیال کر لیتے ہیں کہ ان کو کوئی مستقل چیز مل گئی ہے۔یا کم سے کم وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ان کو اطمینان کی حالت حاصل ہو گئی ہے اور وہ اپنی تمام جد و جہد چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ جملہ خطرات سے محفوظ ہو گئے ہیں۔حالانکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بعض اوقات ایک بڑے مقام پر پہنچ کر بھی نیچے گر جاتا ہے۔جیسے عبداللہ بن ابی کاتب وحی حضرت رسول کریم ﷺ کا ہی واقعہ ہے کہ آپ نے اسے اپنا سیکرٹری بنایا اور وحی الہی کے لکھنے کا کام سپر د کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسے قابلِ اعتبار سمجھا تھا اور اسے متقی خیال فرماتے تھے۔علاوہ ازیں اس کے ذاتی حالات بھی اس کی تائید کرتے تھے مگر دیکھ لو کہ کس حالت تک پہنچ گیا۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کو ہی دیکھتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں کئی ایمان لانے والے مقربین ایسے ہیں جو اب آپ کے درجے کو کم کر رہے ہیں۔کئی ہیں جو دُنیوی عزت کی خاطر سلسلے کی عزت کا خیال نہیں کرتے۔کئی ہیں جو غیر احمدی ہو گئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں بتایا ہے کہ مومن کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے اور خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے نفس کے محاسبہ میں لگے رہنا چاہئے کہ کہیں اس میں کوئی نقص تو جی نہیں پیدا ہو گیا۔یہ بیشک درست ہے کہ اپنی غلطی کا اجمالی احساس تو ہر ایک کو ہوتا ہے لیکن تفصیلی احساس ہر ایک کو نہیں ہوتا۔مگر صرف اجمالی احساس کوئی نفع نہیں پہنچا تا۔اجمالی احساس یہ ہوتا ہے کہ جب انسان کسی درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ وہ بہت کمزور ہے حالانکہ خود اس پر اس کے اس قول کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔عام طور پر یہ کہنا کہ کمزور ہوں ، گنہگار ہوں یہ فقرے تو متکبر اور کا فر بھی کہتے ہیں۔مثلاً جب کوئی ان ان کی تعریف کرے تو انکسار سے وہ بھی ایسے فقرے کہہ دیتے ہیں لیکن دل سے اسے محسوس نہیں کرتے۔پس