خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 9

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بلکہ فریب اور دھوکا دینے میں ، ظاہر داری میں اور جھوٹ میں ترقی کی ہے۔ہلا کولوگوں کو مروا تا تھا اور کہتا تھا کہ میں مارنے کیلئے آیا ہوں مگر آج کے ہلا کو جب مارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم خدمت کیلئے آئے ہیں۔نادر نے یہ کہہ کر قتل عام کرایا تھا کہ میں اسے جائز سمجھتا ہوں مگر اس زمانہ کے کتنے نادر ہیں جو شہروں کو اُجاڑتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ ہم اس قوم کی آزادی اور برتری کیلئے کی آئے ہیں۔ذرا غور کرو نادر نے دتی میں جو قتل عام کیا اس کی کیا حقیقت تھی اس خونریزی کے مقابلہ میں جو ایسے سینیا میں اٹلی نے کی ہے۔ابی سینیا میں معمولی آدمی تو الگ رہے خود باشاہ بھی زہر یلے بموں کے اثر سے بچ نہیں سکا اور سر سے پیر تک زخمی ہو گیا۔اچھے اچھے سمجھدار آدمی ، مدبرین اور جرنیل پاگلوں کی کی طرح چیچنیں مارتے پھرتے تھے۔جتنی تباہی حبشہ میں اٹلی کی بمباری نے کی اتنی تو دتی میں نہیں ہوئی ہوگی۔مگر نادر نے یہ ہر گز نہیں کہا تھا کہ میں دلی کی اصلاح کیلئے آیا ہوں بلکہ اس نے یہی کہا تھا کہ میں قتل کیلئے آیا ہوں۔وہ قاتل بیشک تھا مگر جھوٹا نہیں تھا مگر آجکل کے قاتل اپنے فائدہ کیلئے غریبوں کی کھالیں اُدھیڑتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ ہم رفاہ عام کر رہے ہیں، ملک کی ترقی کیلئے آئے ہیں یہ لوگ پہلوں سے زیادہ قاتل ہیں اور پھر ساتھ جھوٹے بھی ہیں۔ان حالات میں ہماری جماعت جماعت سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جماعت میں شامل ہیں وہ کنویں کے مینڈک نہیں۔جو سمجھتے ہیں چندہ دے دینا اور نمازیں پڑھ چھوڑنا کافی ہے ) کے وہ دوست جو قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے الہاموں پر غور کرتے ہیں اور جو جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جماعتیں دنیا کو بدلنے کیلئے آتی ہے ہیں۔جن میں سے ایک معمولی زمیندار جب اپنے کھیت میں ہل چلا رہا ہوتا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ مجھے غلہ کتنا آئے گا، بلکہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ امریکہ اور جاپان کی اصلاح کس طرح ہو گی۔ایک درزی جب پاجامہ ہی رہا ہوتا ہے تو اُس کا خیال اس طرف نہیں ہوتا کہ مجھے اس کی کتنی اجرت ملے گی بلکہ وہ یہ خیال کی کر رہا ہوتا کہ فلپائن اور امریکہ میں کس طرح پاک انقلاب پیدا کیا جا سکتا ہے۔ایک بڑھئی جب لکڑی صاف کر رہا ہوتا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ اس سے تیار شدہ میز یا کرسی کتنے میں بکے گی بلکہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ دنیا کی اقتصادیات اور تہذیب و تمدن کی اصلاح کیلئے کیا ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔یہ وہ جماعت ہے جو حقیقتاً خدا کی جماعت ہے کنویں کے وہ مینڈک جماعت نہیں جو محض اس لئے کہ اس وقت کی اللہ تعالیٰ نے ان کو بادشاہت نہیں دی، سمجھتے ہیں کہ دنیا سے ہمیں کیا سروکار اور ہمیں ان باتوں پر غور