خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 663 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 663

خطبات محمود ۶۶۳ سال ۱۹۳۷ء صلى الله نہ کرتا کہ میں اور رسول کریم ﷺ ایک جگہ جمع ہوں۔پھر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت دی اور میں مسلمان ہو گیا تو رسول کریم ﷺ سے مجھے اتنی محبت پیدا ہو گئی اور آپ کی اس قدر عظمت میرے دل میں بیٹھ گئی کہ میں آپ کے جلال اور آپ کے رُعب کی وجہ سے آپ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔اور آج یہ حالت ہے کہ اگر کوئی مجھ سے رسول کریم ﷺ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا۔کیونکہ بعض کے وقت مجھے آپ سے اتنا بغض تھا کہ اس بغض کی شدت کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کبھی نہ دیکھی اور محبت کے وقت مجھے آپ سے اتنی محبت پیدا ہوگئی اور آپ کی اس قدر عظمت میرے دل پر مستولی ہو گئی کہ آپ کے ی رعب اور جلال کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کبھی نہ دیکھی۔۵ے یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو ان میں پیدا ہوا۔اگر اس قسم کے لوگ پہلے زمانہ میں ہو سکتے تھے تو یقیناً آج بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔پس مومن کو کبھی بھی فطرت انسانیہ پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے خواہ وہ بدظنی اپنی ذات کے متعلق ہوا اور خواہ دوسرے لوگوں کے متعلق۔جب تک ہماری جماعت کے دوست اس نقص کو دور نہ کر لیں اُس وقت تک نہ ان کے گناہ دور ہو سکتے ہیں اور نہ وہ تبلیغ میں پورے جوش سے حصہ لے سکتے ہیں۔گنا ہوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان نہ اپنی ذات پر بدظنی کرے اور نہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرے۔دنیا میں مختلف کام مختلف میعاد کے اندر ہوتے ہیں۔کوئی دس سال کے اندر ہوتا ہے، کوئی بیس سال کے اندر ہوتا ہے، کوئی تمہیں سال کے اندر ہوتا ہے، کوئی چالیس سال کے اندر ہوتا ہے، کوئی پچاس سال کے اندر ہوتا ہے۔اسی طرح گناہوں سے بھی کوئی جلدی بیچ جاتا ہے کوئی دیر میں بچتا ہے اور کوئی بہت ہی دیر میں بچتا ہے۔اس کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ کوشش کرتا چلا جائے۔اس سلسلہ میں اس کا اپنی کامیابی دیکھنا ضروری نہیں۔ہاں باطنی کامیابی اسے فوراً حاصل ہو جاتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے ظاہر کو نی نہیں دیکھتا۔جب کوئی شخص اپنی اندرونی صفائی کیلئے کوشش شروع کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اُسی وقت کا میاب سمجھا جانے لگتا ہے گو دنیا کے نزدیک اس کی کامیابی میں ابھی کچھ دیر ہو۔پس مومن کو بدظنی کے مرض سے بہت بچنا چاہئے۔میں نے قریباً ہر قوم کے لوگوں سے مل کر دیکھا ہے کہ ان میں نیک اور شریف النفس لوگ پائے جاتے ہیں۔ہندوؤں سے مجھے جب بھی ملنے کا موقع ہوا ہے میں نے ان کی اکثریت کو شرافت اور نیکی کی خواہش اپنے دل میں رکھنے والی پایا ہے اور ان میں سے اکثر کو سچائی کی جستجو ہوتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اگر ان کے سامنے سچائی پیش کی جائے تو وہ اس کو قبول کرنے کی جرات نہ