خطبات محمود (جلد 18) — Page 656
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء سے دوسری جگہ چلا جانا آسان ہے مگر فطرت کا بدلنا مشکل ہے۔گویا رسول کریم ﷺ نے بتادیا کہ جب میں کہتا ہوں کہ فطرت صحیحہ کے باوجود انسان میں تبدیلی ہو جاتی ہے تو اس تبدیلی سے سطحی تبدیلی مراد ہوتی ہے ورنہ فطرت و ہیں قائم رہتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عورتیں برقعہ پہن لیتی ہیں۔اب اگر ایک عورت برقعہ پہنے اور کوئی شخص اس کے برقعہ کو دیکھ کر کہے کہ اس کی آنکھیں بھی ماری گئی ہیں اور اس کا چہرہ بھی مسخ ہو گیا ہے تو ہر شخص اسے بیوقوف کہے گا۔کیونکہ ان چیزوں پر برقعہ کے ذریعہ صرف پردہ پڑا ہوتا ہے ورنہ چیزیں اصل میں موجود ہوتی ہیں۔اسی طرح بچہ ماں باپ کے اثرات کے نتیجہ میں یہودیت یا نصرانیت یا مجوسیت کا برقعہ پہنتا ہے، فطرت نہیں بدلتی۔کیونکہ پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتا ہے مگر فطرت میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو فطرت انسانی اسی جگہ قائم رہتی ہے البتہ ماں باپ اس کی عادات میں تبدیلی کر دیتے ہیں، اس کے سطحی خیالات میں تبدیلی کر دیتے ہیں اور وہ ایک دھوکے میں آ جاتا ہے۔جیسے خدا تعالیٰ نے تو سردی اور گرمی کا الگ الگ موسم بنایا ہوا ہے مگر جب کسی کو ملیر یا چڑھتا ہے تو اسے کی سخت گرمی میں بھی سخت سردی محسوس ہونے لگ جاتی ہے۔مگر کوئی نہیں کہتا کہ اس کی فطرت بدل گئی۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہ مرض ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب میں کمزوری واقع ہوگئی ہے، ورنہ اس کی لکی فطرت نہیں بدلی۔چنانچہ جو نبی اس کا بخار اترتا ہے فوراً اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے۔اسی طرح بعض بخار ایسے ہوتے ہیں جن میں سخت گرمی محسوس ہوتی ہے۔سردی کے ایام ہوتے ہیں لوگ آگ تاپ رہے ہوتے ہیں۔سردی کے مارے ٹھٹھرے جارے ہوتے ہیں مگر مریض کہہ رہا ہوتا ہے مجھے آگ لگ گئی ، میرے کپڑے اُتار دو۔بلکہ بعض امراض تو ایسے ہیں جو بہت لمبے چلے جاتے ہیں اور ان کے نتیجہ میں بیمار سردی کے ایام میں سوتے وقت لحاف سے اپنا پاؤں باہر نکال لیتا ہے۔ایسے ایسے مریض کو جب بھی دیکھو گے تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ اپنا سارا جسم لحاف سے ڈھک لے گا مگر پیر نہیں ڈھکے گا۔حالانکہ دوسرے لوگوں کو اس وقت سخت سردی محسوس ہو رہی ہوتی ہے اور سردی سے اُن کے پیرسن ہورہے ہوتے ہیں۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ دنیا سے سردی مٹ گئی یا گرمی جاتی رہی بلکہ درحقیقت اس شخص کی فطرت پر ایک پردہ پڑ جاتا ہے۔جب وہ پردہ دور کر دیا جاتا ہے تو وہ فوراً اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے۔پس رسول کریم علیہ نے ان دونوں مضمونوں کو بیان کر دیا اور فرمایا کہ بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔اور یہ فطرت ایسی چیز ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔اور جب ہر بچہ