خطبات محمود (جلد 18) — Page 603
خطبات محمود ۶۰۳ سال ۱۹۳۷ء - کاموں پر مبلغوں سے زیادہ خرچ آتا ہے کیونکہ ان کو سکھانے کیلئے لکڑی ، لوہا اور چمڑا ضائع کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اگر وہ ضائع نہ کیا جائے تو وہ سکھ نہیں سکتے۔اس لئے یہ کام بہت اخراجات چاہتے ہیں اور اس کیلئے بہت توجہ کی ضرورت ہے۔مگر کچھ تو روپیہ کی کمی کی وجہ سے اور کچھ دوسرے کاموں کی طرف توجہ کی کی وجہ سے ہم اس کی طرف پوری توجہ نہیں دے سکے میرا اراد ہے کہ اس کام کو بھی مستقل بنیاد پر قائم کیا جائے۔اور اگر یہ سکیم کامیاب ہو جائے تو سینکڑوں نوجوان کام پر لگ سکتے ہیں جو ساتھ ہی مبلغ بھی ہوں گے۔میں نے سوچا ہے کہ ان سب باتوں کیلئے کم سے کم سات سال کی سہولت ہمیں ملنی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین ہے کہ ایسا فنڈ قائم ہو جائے کہ سب کام آسانی سے چل سکیں اور مزید چندوں کی بھی ضرورت نہ رہے۔اور ہم بغیر چندوں کے ہی اس قابل ہو سکیں کہ ایک طرف تو بیرونی ممالک میں ایسے مبلغ بھیج سکیں جو ماہر دین بھی ہوں اور دوسری طرف سینکڑوں ایسے لو ہار ، ترکھان اور چمڑے کا کام کرنے والے نوجوان پیدا کر دیں جو دین کے عالم بھی ہوں اور جو ہندوستان کی سب منڈیوں میں پھیل جائیں اور اپنا کام کرنے کے علاوہ وہاں قرآن کریم اور احادیث کا درس بھی دے سکیں اور تبلیغ بھی کریں۔اسلام کی تبلیغ در اصل اسی طرح ہوئی ہے۔ان بزرگوں کے ناموں کو اگر دیکھا جائے جنہوں نے اسلام پھیلایا ہے تو ان کے ناموں کے ساتھ ایسے القاب ہیں کہ فلاں رسیاں بٹنے والا تھا ، فلاں بوٹ بنانے والا تھا، فلاں گھی بیچنے والا تھا۔دراصل صوفیاء نے تبلیغ اسلام کا یہ ذریعہ نکالا تھا کہ وہ اپنے کی شاگردوں کو ایسے پیشے سکھاتے کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کے قابل ہو سکیں اور پھر انہیں باہر بھیج دیتے تھے کہ جا کر اپنا کام بھی کریں اور ساتھ تبلیغ اسلام بھی۔یہی ایک ذریعہ ہے جس میں اگر ہم کامیاب ہو جا ئیں تو لاکھوں مبلغ مُفت ملک کے کونہ کونہ میں بھیج سکتے ہیں۔مردم شماری کے اعداد و شمار کی رو سے جو اس سال شائع ہوئے ہیں ، ہمارے ملک کی آبادی ساڑھے سینتیس کروڑ ہے۔اس میں سے اگر نصف بھی مرد ہوں کی تو گویا پونے انیس کروڑ مرد ہیں۔ان میں سے اگر آدھے جوان ہوں تو قریباً 9 کروڑ جوان مرد ہیں اور اندازہ کیا گیا ہے کہ ہر سو میں سے کم سے کم ہیں پیشہ ور ہیں اور باقی جو ۸۰ فیصدی ہیں وہ زراعت یا تجارت یا ملازمت کرتے ہیں۔گویا ہمارے ملک میں کم سے کم ایک کروڑ اسی لاکھ انسان پیشہ ور ہیں یعنی دھوبی، نائی، درزی، موچی، لوہار، ترکھان وغیرہ۔اور اگر ہم پوری کوشش کریں اور ان ایک کروڑ اسی لاکھ میں سے سواں حصہ بھی لے لیں تو بھی گویا ہمارے لئے اس میدان میں ایک لاکھ اسی ہزا را اپنے آدمی کی