خطبات محمود (جلد 18) — Page 581
خطبات محمود ۵۸۱ سال ۱۹۳۷ء مخاطب ہو کر فریاد کر رہے ہیں کہ انصاف ! انصاف ! بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے بھلا یہ بھی کوئی کی انصاف ہے ہم باقاعدہ دشمن کے ایک آدمی کو پکڑتے اور پوری احتیاط کے ساتھ اُسے ذبح کرتے ہیں۔مگر وہ لوگ نہ رگ دیکھتے ہیں پٹھا، یونہی مارتے چلے جاتے ہیں۔ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔وہ قصائی تو ادھر انصاف کی جستجو کرتے رہے اور اُدھر دشمن کی فوجیں بے انصافی کیلئے ملک میں داخل ہو گئیں۔تو دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوتا جب تک قوم کے افراد میں ایک نظام نہ ہو اور ان میں جفا کشی کی عادت نہ ہو اور جفاکشی بغیر سادہ زندگی اختیار کئے پیدا نہیں ہوتی۔اسی طرح رب العلمین کی صفت ان کے ماتحت بھی سادہ زندگی کی تحریک اُس طرح آتی ہے کہ سادہ زندگی اُس فرق کو دور کرتی ہے جو امراء اور غرباء میں پایا جاتا ہے۔جس طرح باپ چاہتا ہے کہ کسی وقت اُس کے تمام بیٹے خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھا ئیں۔اسی طرح رب العلمین یہ چاہتا ہے کہ امراء اور غرباء میں ایسا فرق نہ ہو جس کی وجہ سے ان کا ایک دستر خوان پر جمع ہونا مشکل ہو۔فرق بے شک ہو مگر ایسا نہ ہو جو آپس کے تعلقات کو خراب کر دے اور ان میں اس قدر انسانیت بھی باقی نہ رہنے دے کہ امیر غریب کو حقیر اور ذلیل جانے اور غریب امیر کے متعلق سمجھے کہ وہ عام انسانوں سے بالا ہو گیا ہے۔مگر امارت وغربت کا امتیا ز سادہ زندگی سے ہی دور ہو سکتا ہے اور یہ بھی صفت رب العلمین کے ماتحت ایک تحریک ہے جس پر عمل کر کے انسان اپنے آپ کو رب العلمین کا مظہر بنا سکتا ہے۔سکتا غرض یہ چند مشقیں ہیں جو میں نے بتا ئیں اور میری غرض ان مشقوں سے یہ ہے کہ تم اپنے آپ کی کو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا بھی مظہر بناؤ اور اُس کی رحمانیت کا بھی مظہر بناؤ اور اُس کی رحیمیت کا بھی مظہر بناؤ اور اُس کی ملکیت کا بھی مظہر بناؤ اور اس طرح اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر کے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بناؤ۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت میں جو لوگ نئے داخل ہوتے ہی ہیں وہ وفات مسیح اور ختم نبوت وغیرہ کے مسائل سُن کر داخل ہوتے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چند مسائل ہی ہیں جو ہم نے ماننے ہیں اور انہیں مانا اور چھٹی ہوگئی۔حالانکہ اسلام ایک وسیع نظام کا نام ہے۔اور اس کے اندر بادشاہتوں کا نظام بھی شامل ہے، اہلی اور عائلی زندگی کا نظام بھی شامل ہے ،تعلیمی نظام بھی شامل ہے، تربیتی نظام بھی شامل ہے اور یہ جس قدر نظام ہیں ان کو قائم کرنا ہمارے لئے ضروری نی ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم رحمانیت کو بھی قائم کریں اور رحیمیت کو بھی۔ہم ربوبیت کو بھی قائم