خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 511

خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۷ء صرف یہی چیز ہے جس پر ہماری فتح اور کامیابی مقدر ہے۔اور چونکہ یہ دن خصوصیت سے دعاؤں کے دن ہیں اس لئے ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور بالالتزام یہ دعا کریں کہ وہ اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان پیدا کرے۔ہماری کمزوریوں کو دور کرے، ہماری کوتاہیوں سے چشم پوشی کی کرے، ہماری خطاؤں کو معاف کرے اور اپنے فضل سے ہمیں وہ سامان عطا فرمائے جن سامانوں سے ہمارا مقصود ہمیں حاصل ہو۔کیونکہ گو ہم کمزور ہیں مگر کام اُسی کا ہے اور ہماری شکست اور نا کامی اُسی کے جلال کے ظہور میں حارج ہوگی۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں تا ہماری غفلتوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا جلال پوشیدہ نہ ہو جائے اور ہماری کوتاہیاں نادانوں کی نگاہ میں اس کی شکست قرار نہ پائیں اور وہ اپنے فضل سے اپنے نام، اپنے جلال اور اپنی عزت کے ظہور کیلئے ہمارے کمزور ہاتھوں میں وہ طاقت پیدا کر دے جو کام کو سرانجام دینے کیلئے ضروری ہے۔پھر اس کے ساتھ ہی جماعت کے افراد کیلئے بھی دعائیں کرو اور اپنے اہل وعیال اور دوستوں اور عزیزوں کیلئے بھی دعائیں کروتا اللہ تعالیٰ ہم سب میں حقیقی تقویٰ پیدا کرے۔یہ امر اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جب تک نیکی اور تقویٰ دنیا میں قائم نہیں ہو جاتا ، ہمیں وہ ثمرات میسر نہیں آسکتے جو ہمارے لئے مقدر ہیں۔ایک انسان میں غلطیاں بھی ہوں ، وہ گنہ گار بھی ہو ، وہ قصور وار بھی ہومگر جب تک اُس کے دل میں تقویٰ رہتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے گناہوں کو ڈھانپتا چلاج ہے اور بالآخر ا سے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے۔پس سب سے پہلے جماعت کے افراد کیلئے دُعا کرو اور اپنے اہل وعیال اور رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے بھی کہ ہم میں سے ہر شخص کو تقویٰ اللہ نصیب ہو۔تقویٰ خدا تعالیٰ کی خشیت اور خوف کو کہا جاتا ہے اور جب تک کسی شخص کے دل میں اُس کا خوف رہتا ہے اُس وقت تک وہ گناہ کی حالت میں بھی خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے۔کیونکہ گو گناہ ایک کمزوری کی علامت ہے مگر خشیت اللہ کے معنے ہیں خدا کی محبت۔اور گوخشیت خوف کو کہا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا ڈر ایسا نہیں ہوتا جیسے سانپ کے زہر سے انسان ڈرتا ہے۔اس کے ڈر کے معنے اُس کی محبت کے ہی ہوتے ہیں اور در حقیقت محبت الہی کا ہی دوسرا نام خشیت اللہ اور تقویٰ اللہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی محبت ایسی چیز ہے کہ جس دل میں اس کا ایک شمہ بھی باقی ہو اُس کا تباہ ہونا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ جس شخص کے دل میں اس کی سچی محبت ہو وہ اسے ضائع کی