خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۷ء وغیرہ پیدا کئے ہیں جو اقتصادی دنیا کو بسانے کے سامان ہیں۔گویا اللہ تعالیٰ نے ایک دنیا انسان کے اندر بنائی ہے جو باہر نکلنا چاہتی ہے اور ایک باہر بنائی ہے جو انسان کے اندر آنا چاہتی ہے۔ایک طرف دل میں محبت کا جذبہ اور شہوت پیدا کی ہے تو دوسری طرف بیوی اور خاوند ، بچے ، بہن بھائی ، ماں باپ بنائے ہیں کہ بعض محبت کا اور بعض شہوات کا محل بنتے ہے ہیں۔اور بعض کی محبت اور شہوات کا یہ حل بنتا ہے۔باہر کی دنیا اس کے اندر آنا چاہتی ہے اور اس کے اندر کی دنیا باہر جانا چاہتی ہے۔اس کے اندر کی محبت بیوی بچوں اور ماں باپ پر چھا جاتی ہے اور بیوی بچے ، ماں باپ، بہن بھائی کہلانے والے انسان جو اس کیلئے بیرونی دنیا تھی اس کے دل میں آکر بس جاتی ہے اور اس کیلئے ایک نیا عالم تیار ہوتا ہے اور اس کیلئے اس دنیا میں وابستگی کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔پھر جہاں انسان کے اندر بھوک رکھی ہے زبان کو مزے اور چکھنے کی خواہش دی ہے ، لذت اور ذائقہ کا ذوق پیدا کیا ہے وہاں باہر مختلف قسم کے جانور اور قسم قسم کے مزوں والے گوشت بھی پیدا کئے ہیں۔زبان کا چسکا اور پیٹ کی بھوک ان جانوروں پر چھا جاتی ہے اور وہ جانور گوشت بن کر اس کے پیٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس طرح یہ بیرونی دنیا پر غالب آ جاتا ہے اور بیرونی دنیا اس کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور اس طرح ایک نیا عالم پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح بھوک اور چکھنے کی خواہش قسم قسم کی سبزیوں پر چھا جاتی ہے اور دوسری طرف وہ تڑپ رہی ہوتی ہیں کہ کسی طرح انسان کے جسم میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر ایک نیا عالم پیدا کر دیتی ہیں۔یہی حال پھلوں اور میووں کے متعلق ہے۔پھر جہاں اس کی آنکھ کو ذوق نظارہ بخشا ہے ، جہاں ناک میں خوشبو سونگھنے کی طاقت رکھی ہے وہاں باہر خوبصورت نظارے اور رنگا رنگ کے پھول پیدا کئے ہیں اور نہایت خوشبودار مادے بنائے ہیں۔آنکھ اور ناک کی جس جستجو کرتی ہوئی باہر آتی ہے اور باہر کی خوشبوئیں اور خوبصورتیاں اس کی ناک اور آنکھ میں گھس جاتی ہیں اور اس طرح پھر یہ ایک نیا عالم پیدا ہوتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایک دنیا انسان کے اندر اور ایک اس کے باہر پیدا کی ہے مگر دونوں میں صحیح جوڑ پیدا کرنے کیلئے کچھ طریقے مقرر کئے ہیں۔مثلاً یہ طریق مقرر کیا ہے کہ گوشت کھانے کیلئے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لوتا جو خشونت اور سختی تمہارے دل میں دوسری جان کو مارنے سے پیدا ہوسکتی ہے وہ دور ہو جائے۔تم ذبح کرنے سے پہلے خدا کا نام لے کر اقرار کرتے ہو کہ اس بکرے یا