خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 50

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اپنے آپ کو نڈر اور صادق القول بناؤ فرموده ۵ فروری ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں پیدا کر کے کچھ تو اس کو قو تیں اور طاقتیں دی ہیں جن سے ی وہ کام کر سکتا ہے اور کچھ سامان مہیا فرمائے ہیں جو وہ استعمال کر سکتا ہے اور کچھ طریقے مقرر فرمائے ہیں جن کے ذریعہ سے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔مثلا اگر انسان کو اُس نے کام کرنے کی طاقت دی ہے، سوچنے کے لئے دماغ دیا ہے، کام میں تنوع پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کے ذوق بخشے ہیں اور رغبت پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کی امنگیں اس کے دل میں پیدا کی ہیں۔غیرت پیدا کی ہے، جوش اور غضب پیدا کیا ہے، محبت پیدا کی ہے۔اس کے بعد پھر اُس نے عورت اور مرد کا فرق رکھا ہے تا ان طاقتوں کے استعمال کرنے کیلئے اُس کیلئے میدان کھل جائے۔بچے پیدا کئے ہیں، بھائی بہن اور دوسرے رشتہ دار بنائے ہیں۔پھر اُس نے اس سے بھی زیادہ تنوع پیدا کرنے کیلئے حیوانات پیدا کئے ہیں۔پھر اس کے کام کو اور وسیع کرنے کی کیلئے قسم قسم کے غلے، میوے، ترکاریاں، سبزیاں اور پھل پھول وغیرہ پیدا کئے ہیں۔پھر اس کی بادشاہت کو اور زیادہ وسیع کرنے کیلئے لکڑی، لوہا، آگ اور پانی وغیرہ اشیاء بنائی ہیں جن پر انسان کا عمل وارد ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ انسان نئی اشیاء بنا کر اپنے لئے نئی دنیا بناتا ہے۔پھر فطرتا نسانی میں کی مدنیت کا مادہ رکھا ہے اور حکومت و اقتصادیات کے رستے کھولے ہیں۔پھر سونا، چاندی اور جواہرات