خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 428

خطبات محمود ۴۲۸ سال ۱۹۳۷ء تمہاری اکثریت روح القدس سے مؤید رہے گی اور خدا تعالیٰ کی تائید تمہار ا ساتھ کسی صورت میں نہیں چھوڑے گی۔چیز ایک ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا نام قدرت ثانیہ رکھا ہے کی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے اس کا نام روح القدس رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کا نام۔زمانہ خیر رکھا ہے۔بہر حال جو کچھ بھی وہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے اور پاکیزگی کی روح ہے۔وہ بہترین زمانہ ہے۔اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی خبر ہے کہ جب تک کہ اس کے اٹھائے جانے کا وقت نہ آئے وہ متواتر جاری رہتی ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ وہ روح القدس، وہ قدرت ثانیہ، وہ زمانہ خیر جو ہر نبی کے بعد اس کی جماعت کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور بلا وقفہ اور بلا فتور اُس وقت تک اس کے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے جب تک کہ وہ نبی کی جماعت دنیا کو خدا تعالیٰ کیلئے فتح نہ کرے، وہ زمانہء خیر اس جماعت سے دور ہو گیا ہے، وہ قدرت ثانیہ اس جماعت سے چھین لی گئی ہے ، وہ روح قدس اس سے ہٹالی گئی ہے وہ نابینا ہے، وہ خود روحانیت سے محروم ہے۔کاش ! وہ ان الفاظ کے کہنے سے پہلے خدا تعالیٰ کے الفاظ پر غور کرتا اور سوچتا کہ میں کیا کہنے والا ہوں اور اس کے نتائج میری روح کیلئے کس قدر خطر ناک نکلنے والے ہیں۔دنیا کی عزتیں کوئی چیز نہیں، دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی چیز نہیں اور یہاں تو ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں۔صرف جماعت حقہ کے مخالف لوگوں کی واہ واہ اور کی تعریف ہی ہے جس تعریف کی نہ کوئی قیمت ہے اور جس واہ واہ کو نہ کوئی اہمیت حاصل ہے۔پس کاش کہ یہ لوگ سوچتے اور اگر ان کے دلوں میں دینی روح قائم نہ رہی تھی تو یہ اپنے نفس پر بدظنی کرتے مگر خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور اس کے خلفاء پر بدظنی نہ کرتے۔بہتر ہوتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرتے اور اس سے تو بہ واستغفار کرتے تا وہ ان کے ایمان کو بچا لیتا۔خدا تعالیٰ کسی کی کے ایمان کا دشمن نہیں ، وہ کسی کو ہدایت سے محروم نہیں کرنا چاہتا سوائے اس کے جو آپ ہی اس کی ہدایت کی کو پھینک دیتا ہے اور جو آپ ہی اس کی نعمت کو رد کر دیتا ہے۔کاش ایسا شخص ایسی جرات نہ کرتا اور ایسی تی باتیں کہنے سے پہلے جو کہ جماعت کیلئے نہیں بلکہ خود اس کی جماعت کے بانی کیلئے موجب اعتراض ہیں، جنگلوں میں چلا جاتا اور خدا کے سامنے گڑ گڑاتا اور زاری کرتا اور کہتا اے میرے خدا! شیطان مصلح کی صورت میں میرے سامنے آیا ہے اور نیکیوں کی شکل میں وہ مجھے بدی کی ترغیب دیتا ہے۔میں کمزور ہوں، ایمان کا دامن میرے ہاتھوں سے چھٹا جاتا ہے اور عرفان کی روح میرے جسم سے نکلی جاتی۔