خطبات محمود (جلد 18) — Page 422
خطبات محمود صلى الله ۴۲۲ سال ۱۹۳۷ء رسول کریم ﷺ نے پہلی تین صدیوں کو تو اپنے نور کا زمانہ قرار دیا ہے اور بعد کی دس صدیوں کو دجال کی آزادی کا زمانہ۔حالانکہ ان دس صدیوں میں بڑے بڑے روحانی عالم اور بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں زمانوں میں یہی فرق ہے کہ پہلی تین صدیوں میں اسلام کی حامل کثریت تھی اور پچھلی دس صدیوں میں اسلام کی حامل اقلیت تھی۔جس زمانہ میں اسلام کی حامل اقلیت تھی، اُس زمانہ کو رسول کریم ﷺ نے دجال کا زمانہ قرار دیا ہے اور جس زمانہ میں اسلام کی حامل اکثریت تھی ، اُس کو اپنا زمانہ قرار دیا ہے۔پس وہ چند افراد جو کہ اخلاقی طور پر بھی کوئی اچھا معیار ظاہر نہیں کر سکتے اگر وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا حامل قرار دیں اور ہم ان کے اس دعوی کو قبول بھی کر لیں تب بھی رسول کریم کے فیصلہ کے مطابق بوجہ اس کے کہ جماعت کی اکثریت ان کے ساتھ نہیں اور بقول اُن کے اس کا قدم ضلالت کی طرف چلا گیا ہے اور وہ ایک سلسلہ کے دشمن کی محبت میں غلو کر رہی ہے، یہ زمانہ دجالی زمانہ کہلائے گا کیونکہ چند آدمیوں کے راستی پر قائم ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ کا تسلسل اور تو اتر قائم نہیں رہتا۔وہ لوگ جو آج جماعت احمدیہ پر احمدی کہلاتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں جماعت کے مقابلہ میں ان کی تعداد اتنی بھی نہیں ہے جتنی کہ فیج اعوج کے زمانہ میں مومنوں کی دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں تھی۔پھر جب کہ باوجود ان مومنوں کی موجودگی کے رسول کریم ﷺ نے اس زمانہ کو اپنی روحانی بادشاہت کے زمانہ سے خارج کر دیا ہے تو ان سے بہت کم تعداد میں ہوتے ہوئے یہ لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔اس صورت میں تو ہم کو ماننا پڑے گا کہ دجال پیشتر اس کے کہ مارا جاتا پھر غالب آ گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں آپ کی وفات سے نصف صدی سے بھی پہلے فیح اعوج کا زمانہ شروع ہو گیا ہے اور اکثریت باطل پر اور اقلیت حق پر قائم ہوگئی ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان پر غالب آنا تو در کنار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح شیطان سے پوری طرح نبرد آزما ہونے سے پہلے ہی میدان چھوڑ گئی ہے اور میدان شیطان کے ہاتھ رہا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا تھا کہ مَا أَنتَ اَنْ تَتْرَكَ الشَّيْطنَ قَبْلَ أَنْ تَغْلِبَهُ - یعنی شیطان کو مغلوب اور زیر این کر لینے سے پہلے اے ہمارے مسیح! تو کبھی مقابلہ نہیں چھوڑے گا اور تو بس نہیں کرے گا جب تک شیطان