خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 412

خطبات محمود ۴۱۲ سال ۱۹۳۷ء ڈنڈا مار دیا۔اب دیکھو ایک بچہ اور نادان بچہ جس میں عقل و خرد نہیں وہ ایک کتے کو روٹی کیلئے بلاتا ہے مگر جب اسے روٹی دینے کی بجائے ڈنڈا مارتا ہے تو انسانی فطرت اس بات کو بُرا مناتی ہے۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا خدا تمہیں اپنے دربار میں بلا کر تم سے یہی معاملہ کرے گا اور وہ تمہیں ہدایت تو یہ دیتا ہے کہ مجھے سے انعام ما نگومگر جب تم انعام لینے جاؤ گے تو تمہیں خالی ہاتھ پھیر دے گا۔ایک بچہ کی ایک کتے سے اس قسم کی بات ہوتی ہے تو انسانی فطرت اسے نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔پھر کیسا نالائق وہ انسان ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ خدا تو اُسے اس لئے بلاتا ہے کہ وہ اسے انعام دے مگر جب وہ جائے گا اور انعام لینے جائے گا تو وہ اسے ٹھوکر مار کر اپنے دربار سے نکال دے گا۔یہ خیال ہی خود بے ایمانی کی علامت ہے۔یہ خیال ہی خود کفر کی علامت ہے، یہ خیال ہی خودارتداد کی علامت ہے اور جس شخص کے کی دل میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے وہ اپنے کفر اور اپنے ارتداد اور اپنے نفاق پر آپ مُہر لگاتا ہے۔اگر اس کی کے اندر ایمان ہوتا تو وہ سمجھتا کہ خدا جو مجھے بلا رہا ہے اور اس نے مجھے اپنا ابراہیمی پرندہ بنایا ہے تو اس لئے بنایا ہے کہ مجھے اپنا مقام قرب دے اور اگر ایک دروازہ میرے لئے بند ہے تو کوئی اور دروازہ میرے لئے ضرور کھلا ہوگا۔اگر یہ دو باتیں جو سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں انسان سمجھ لے تو ارتداد اور نفاق کا پیدا ہونا بالکل بند ہو جائے۔یہ دو وسو سے ہیں جو دلوں میں پیدا ہوتے اور انسان کے ایمان کو بالکل بہا کر لے جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اب میرے لئے انعامات کے دروازے بند ہو گئے۔پس وہ خیال کرتا ہے کہ جب میرے لئے حصولِ عزت کی اب کوئی راہ باقی نہیں تو آؤ میں نئی انجمنیں بناؤں اور ان کا صدر اور پریذیڈنٹ بن جاؤں۔پھر انجمنوں کی صدارت پر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور قوم کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچنے لگ جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو مسلمانوں میں جب بھی کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے اسی بات پر ہوتا ہے کہ جب کوئی نئی انجمن بنتی ہے تو ایک کہتا ہے پریذیڈنٹ میں بنوں دوسرا کہتا ہے تو کیوں بنے میں بنوں گا۔وہ سمجھ لیتے ہیں کہ عزت کے حصول کے طریق محدود ہیں اور اگر عزت حاصل کرنے کا کوئی طریق ہے تو صرف یہ کہ دوسرے کو گرایا جائے اور خود اس کا مقام حاصل کیا جائے۔پھر کبھی وظیفوں پر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں کہ فلاں کو کیوں ملا، ہمارے بیٹے کو کیوں نہیں ملا۔غرض یا تو وہ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ حصولِ مدارج کے راستے بند ہو گئے اور یا یہ خیال کرنے لگ جاتے ہی