خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 344

خطبات محمود ۳۴۴ سال ۱۹۳۷ء جائے تو انسان اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔احسان کے اس نوٹ کا مطلب یہ ہے کہ اول تو اس لائکپوری دوست کے نزدیک اور پھر تمام احمدیوں کے نزدیک میری حیثیت ( نَعُوذُ بِاللهِ ) رسول کریم ﷺ اور تمام انبیاء سے زیادہ ہے۔اگر تو یہ نوٹ احسان نے ناواقفیت کی وجہ سے لکھا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ کسی ایک فقرہ کوسن کر بغیر اس کے کہ اس کے مَا سَبَق اور مابعد کو دیکھا جائے یا اس ماحول کو دیکھا جائے جس میں وہ فقرہ کہا گیا ہے کوئی معنے کر لینا عقل کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔احسان“ کے نوٹ لکھنے والے کو چاہئے تھا کہ وہ یہ نوٹ لکھنے سے قبل ہماری تحریرات کو دیکھتا اور یہ معلوم کرتا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تو درجہ دیتے ہیں اور اگر اس نے جانتے اور بوجھتے ہوئے یہ نوٹ لکھا ہے تو میرا جواب سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ مذہبی امور میں اور خصوصاً ایک ایسے معاملہ میں جو تمام لوگوں کی جانوں اور ان کی زندگیوں کی سے قیمتی اور بہت زیادہ قیمتی ہے ایسے بے تحقیق اور غیر ذمہ دارانہ نوٹ لکھنے کسی شریف اخبار کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔میں نہیں جانتا کہ اس لائل پوری احمدی نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔کیونکہ ہمارے سامنے ان کا نام پیش نہیں کیا گیا۔یا کم از کم اس شذرہ میں نہیں تھا جو میں نے پڑھا۔اگر پہلے کے کسی نوٹ میں ان کا نام آیا ہو تو مجھے علم نہیں۔پھر ساری تفصیلی گفتگو وہاں نہیں تھی جس سے ہم کوئی صحیح نتیجہ نکال سکیں مگر جس قدر باتوں کا وہاں ذکر تھا اس سے ایک نتیجہ ہم ضرور نکال سکتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا اس پر بھی وہ اعتراض عائد نہیں ہوسکتا جو احسان نے کیا ہے۔یہ بالکل صاف بات ہے کہ خلیفہ نائب اور کی ماتحت ہوتا ہے اپنے متبوع کا۔اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلفاء براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روحانی خلیفہ ہیں آنحضرت ﷺ کے۔اس لئے وہ بالواسطہ رسول کریم ﷺ کے بھی خلفاء ہیں تو جبکہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں خلیفہ امسیح ہوں اور جس کا میں خلیفہ ہوں اُس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں غلام محمد ہوں تو ان دو دعووں کے بعد کوئی احمدی یہ کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا کوئی خلیفہ چاہے میں ہوں یا کوئی اور اتنا بلند درجہ رکھتا ہے کہ ( نَعُوذُ بِاللهِ ) رسول کریم ﷺ سے بھی وہ بڑا ہے اور خدا کے بعد اگر کسی کا درجہ ہے تو اسی کا۔اور کیا ان دو دعوؤں کی موجودگی میں کوئی بھی عقل مند اس خیال کو صحیح تسلیم کر سکتا ہے؟ کیا ایک ہی