خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ سال ۱۹۳۷ء ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی انہی میں سے بعض میں (میں نے حضرت خلیفہ اول سے سنا ہے ) یہ بھی آتا ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دستی بیعت میں نے ابتدائی چھ ماہ میں اس لئے نہ کی کہ حضرت فاطمہ اتنی شدید بیمار تھیں کہ میں انہیں چھوڑ کر نہیں آسکتا تھا۔کے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا یہی مذہب تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کی بیعت فوراً ہی کر لی تھی۔پس یہ دلیل کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی ، اول تو یہ کمل دلیل نہیں کیونکہ اس کے خلاف بھی روایات پائی جاتی ہیں۔اور اگر بفرض محال دوسری روایت درست ہو تو پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت سے کبھی انکار نہیں کیا۔صرف حضرت فاطمہ کی شدید بیماری کی وجہ ی سے تیمارداری میں مشغول رہنے کے باعث وہ فوراً دستی بیعت نہیں کر سکے۔اور یہ تو ایسی ہی بات ہے کی جیسے کوئی شخص باہر ہو اور وہ کسی اشد مجبوری کی وجہ سے نہ آسکے۔ایسی حالت میں اگر وہ اپنے دل میں خلیفہ وقت کی بیعت کا اقرار کر چکا ہے تو وہ بیعت میں ہی شامل سمجھا جائے گا۔دوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی۔مگر حضرت عائشہ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی ، اول تو تاریخی طور پر ثابت نہیں اور میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی۔لیکن اگر بفرض محال اس امر کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ثابت کریں کہ اُس زمانہ میں ہر فرد واحد خلیفہ وقت کی اصالتاً دوبارہ بیعت کیا کرتا تھا۔ہمیں تو تاریخی کتب کے مطالعہ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں بڑے بڑے آدمی خلیفہ وقت کی بیعت کرلیا کرتے تھے اور اُن کے بیعت کر لینے کی وجہ سے سارے علاقوں کی بیعت سمجھی جاتی تھی۔صرف وہ لوگ خارج از بیعت سمجھے جاتے تھے جو خود بیعت کا انکار کریں ورنہ خاموشی اقرار بیعت قرار دی جاتی تھی۔خصوصاً عورتوں کا خلفاء کی بیعت کرنا یہ تفصیلاً ثابت نہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں چونکہ مذہب کے بدلنے کا سوال ہوتا تھا اس لئے ہر فرد واحد آپ کی بیعت کرتا تھا۔لیکن رسول کریم ﷺ کے بعد جہاں تک تو میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مرد ہر عورت اور ہر بچہ نے خلفاء کی دوبارہ بیعت کی ہو بلکہ جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ شہر کے معزز مرد بیعت کر لیا کرتے تھے اور انہی کی تی