خطبات محمود (جلد 18) — Page 230
خطبات محمود ۲۳۰ سال ۱۹۳۷ء پیغام صلح میں غیر احمدیوں کے متعلق یہی تحریر فرمایا ہے کہ وہ پرا گندہ طبع اور پراگندہ خیال ہیں۔کسی ایسے لیڈر کے ماتحت وہ لوگ نہیں جو ان کے نزدیک واجب الاطاعت ہو اور یہ کہ جماعت صرف میری ہی ہے جو ایک ہاتھ پر جمع ہے۔تو جماعت اور بیعت لازم و ملزوم ہیں اور دنیا میں وہ کون سا دستور ہے جس کے ماتحت جماعت تو ہو مگر بیعت نہ ہو۔یہ الگ بات ہے کہ وہ بیعت روحانی ہو یا جسمانی۔مگر بہر حال کوئی جماعت بیعت کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی۔مثلاً حکومتیں بیعت نہیں لیتیں لیکن وہ اپنے کی افسروں سے اطاعت کیلئے قسمیں لیتی ہیں۔اسی طرح بادشاہ اور پریذیڈنٹ لوگوں سے قسمیں لیتے ہیں کہ وہ ان کے فرمانبردار ہیں گے۔ابھی گزشتہ دنوں ہمارے نئے بادشاہ کی رسم تاجپوشی منائی گئی ہے اس موقع پر سب افسروں سے قسمیں لی گئی ہیں اور یہ قسمیں لینا بھی بیعت کی ایک قسم ہے ورنہ اگر بیعت نہ ہوتی یا قسم نہ ہو یا آپس میں کوئی عہد و پیمان نہ ہوتو وہ جماعت نہیں بلکہ افراد ہیں۔جماعت کے معنے صرف یہ ہیں کہ وہ چند افراد جو ایک نظام کی پابندی کرنے والے ہوں اور کہتے ہوں کہ ہمیں جو بھی حکم ملے گا ہم اُس کی پابندی کریں گے۔یہ اطاعت کا عہد ہمارے ہاں بیعت کے ذریعہ ہوتا ہے۔بعض قوموں میں اس کی ظاہری علامت قسم ہے اور بعض قوموں میں اور علامات ہیں۔بہر حال جماعتیں کسی نہ کسی علامت کے ذریعہ اقرار کرتی ہیں کہ ہم حکومت یا نظام کی پابندی کریں گی۔ان حالات میں جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں خلیفہ کی بیعت سے الگ ہوتا ہوں تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ وہ جماعت احمدیہ کے اس نظام سے الگ ہوتا ہے جس میں وہ پہلے شامل تھا ہی اور یہی ہم کہتے ہیں۔ہم جب کہتے ہیں کہ فلاں شخص جماعت سے نکل گیا تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ ہمارے نظام سے وہ الگ ہو گیا اور ہماری اطاعت کے عہد کو اس نے توڑ دیا ہے۔یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ پیغامیوں میں سے نکل گیا یا اگر مصری صاحب نے کوئی اپنا مخفی بیعت نامہ جاری کیا ہوا ہے تو اس بیعت سے الگ ہو گیا ہے۔ہم جب بھی یہ کہیں گے کہ فلاں شخص جماعت سے الگ ہو گیا تو اس کے نہ یہ معنے ہوں گے کہ وہ انگریزی حکومت سے نکل گیا نہ یہ معنے ہوں گے کہ وہ جرمنی حکومت سے نکل گیا۔نہ یہ معنے ہوں گے کہ وہ پیغا میوں میں سے نکل گیا بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ وہ ہماری جماعت کے خلیفہ اور امام کی بیعت سے نکل گیا۔یہی بات ہے جو میں اپنے خطبوں میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ جب کوئی شخص ہماری جماعت میں سے نکل جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ احمدیت سے نکل گیا۔