خطبات محمود (جلد 18) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۷ء نہ ہو جائے اُس وقت تک تم ہمارے ہاں نہ آؤ۔پھر میں نے کہا کہ تمہارے لئے اب بھی یہی مناسب ہے کہ لڑکی واپس کر دو اور پھر اُس کے رشتہ داروں کی منت سماجت کرو کہ اب تمہاری بھی ذلت ہے اور ہماری بھی ذلت ، بہتر ہے یہی نکاح قائم رکھا جائے۔اس کے بعد مجھے معلوم نہیں ہوا کہ کیا ہوا۔لیکن آج مجھے پھر ایک چٹھی ملی اور وہ چٹھی ان لوگوں کی طرف سے ہے جن کا اصل مکان ہے۔وہ شکایت کرتے ہیں کہ محلے والے انہیں دق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لڑکی یہاں کیوں رہتی ہے۔جس سے میں سمجھتا ہوں کہ اس کا معاملہ ابھی تک تصفیہ نہیں ہوا مجھے دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ پولیس کے دخل دینے والا نہیں۔لڑکی جوان ہے اور وہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے چکی ہے کہ میں اسی لڑکے کے جی ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔لیکن خواہ مجسٹریٹ کے سامنے وہ لڑکی جواب دے چکی ہو کسی مجسٹریٹ کسی قاضی اور کسی حکومت کے کہنے سے یہ نکاح جائز نہیں ہوسکتا۔ނ جس بات کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ناجائز قرار دیا ہے اگر اس بات کو ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی جائز قرار دیں تو وہ جائز نہیں ہوسکتی۔ایک غیر احمدی کیلئے ، ایک ہندو کیلئے اور ایک عیسائی کیلئے حکومت کا قانون تسلی کا موجب ہو سکتا ہے۔کیونکہ غیر احمدیوں کے پاس گو ایک سچاند ہب ہے لیکن وہ اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے۔قرآن مجید ان کے پاس ہے لیکن وہ اسے بھول چکے ہیں۔عیسائی شریعت کو لعنت قرار دیتے ہیں اور ان کے ہاں شریعت دستور اور رسم و رواج کا نام ہے۔ہندو بھی مذہب۔بیگا نہ ہو چکے ہیں لیکن ہمارے ہاں معزز وہ ہے جو شریعت پر عمل کرتا ہے اور اسی شریعت اسلامی کو دنیا میں صحیح طور پر قائم کرنا احمدیت کی غرض ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے اور واقعہ میں آپ اُسی کی طرف سے ہیں تو ہماری شریعت یہی کہتی ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر سوائے ان مستثنیات کے جن کا استثناء خود شریعت نے رکھا ہے، کوئی نکاح جائز نہیں اور اگر ہوگا تو نا جائز نکاح ہو گا اور ادھالا ہوگا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو سمجھا ئیں اور اگر نہ سمجھیں تو ان سے قطع نی تعلق کر لیں۔اس قسم کے واقعات بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک لڑکی نے جو ، جوان تھی ایک شخص سے شادی کی خواہش کی مگر اس کے باپ نے نہ مانا۔وہ دونوں منگل چلے گئے اور جا کر کسی ملانے سے نکاح پڑھوا لیا اور کہنا شروع کر دیا کہ ان کی