خطبات محمود (جلد 18) — Page 166
خطبات محمود ۱۶۶ سال ۱۹۳۷ء حکام کی طرف سے ، اپنے فضل سے دور کر دے۔۔اس کے علاوہ ایک زائد بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو منافقین کا رنگ رکھتے ہیں یا تو ہدایت دے دے یا ان کو الگ کر دے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری عاجزانہ دعائیں قبول ہو رہی ہیں اور اب ایسے لوگ یا تو ظاہر ہو جائیں گے اور یا تو بہ کر لیں گے۔ہماری ذاتی خواہش تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق دے اور ہدایت نصیب کرے۔لیکن اگر مشیت الہی یہی ہو کہ جہاں بیرونی فتنوں میں جماعت کی آزمائش ہوئی ہے اندرونی فتنوں میں بھی ان کی آزمائش کرے اور منافقوں کو بھی زور لگانے کا موقع دے تو جو اس کی مرضی اور مشیت ہے ہم بھی اُسی پر رضامند ہیں۔پس دوست خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں اور جن کیلئے ممکن ہو روزے رکھیں اور کوشش کریں کہ سوائے بیماری کے یا کسی اور وجہ سے انہی ایام میں رکھیں تا دعا ئیں کثیر تعداد میں ہوں اور اکٹھی آسمان کو جائیں۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کا سلسلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آخری جنگ ہے جو اسلام کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنے کیلئے لڑی جاری ہے۔افتراء کی جتنی صورتیں انسانی ذہن میں آسکتی ہیں، فریب اور دغا کے جتنے طریق انسانی دماغ ایجاد کر سکتا ہے اور گمراہ کرنے ورغلانے کیلئے شیطان جتنی تدابیر اختیار کر سکتا ہے وہ سب احمدیت کے خلاف اختیار کی گئیں اور اختیار کی جارہی ہیں۔مگر با وجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ کی حفاظت کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔نہ دشمنوں کی طاقت اس وعدہ کے پورا ہونے میں روک ہو سکتی ہے اور نہ ہمارے ضعف یا کمزوری سے اس کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی ترقی کے وعدے کئے تو یہ جانتے ہوئے کئے تھے کہ جماعت کتنی کمزور ہے اور اس علم کے ساتھ کئے تھے کہ ہمارے دشمن کتنے طاقتور ہیں۔وہ عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ اس جماعت پر کتنے حملے ہونے والے ہیں اور کہ وہ ان کے دفاع کی کس قدر طاقت رکھتی ہے۔مگر اس مالی نے باوجود یہ جاننے کے کہ جماعت میں کتنی طاقت ہے اور کہ دشمن اسے نقصان پہنچانے کیلئے ہر وہ طریق اختیار کرے گا جو پہلے انبیاء کے سلسلوں کے مقابل پر اختیار کئے گئے ، اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے جو پورا ہوکر رہے گا اور خدا کی نصرت تمام تاریکیوں کو پھاڑ کر اور اس کا نور ہزار ہا با دلوں کو چیرتا ہوا ظاہر ہوگا۔دشمن کی تخویف ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکے گی اور اس کے تمام مکر و فریب ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں