خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 156

خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۷ء نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں۔گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں۔تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آکر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔کیا اُس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے؟ یا اس کی اور تمہاری سیاست ایک ہے؟ یا اس کا نظام تمہارے نظام سے ملتا ہے؟ پھر گورنمنٹ تمہاری کیوں مدد کرے۔گورنمنٹ اگر ہمدردی کرے گی تو اُن لوگوں سے جو تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور تم اقلیت میں اور گورنمنٹوں کو اکثریت کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے۔پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہو سکتی ہے۔اُس کو تو اُسی وقت تک تمہارے ساتھ ہمدردی ہو سکتی ہے جب تک تم خاموش رہو اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اس صورت میں بھی صرف شریف حاکم تمہاری مدد کریں گے اور کہیں گے انہوں نے ہمیں فتنہ و فساد سے بچا لیا۔مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اُس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو اور تم جواب میں اُسے گالیاں دے رہے ہو نادانی ہے۔اُس کی وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہوگی کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کر سکتی۔پس گورنمنٹ سے اسی صورت میں تم امداد کی توقع کر سکتے ہو جب خود قربانی کر کے لڑائی اور جھگڑے سے بچو اور اُس کی وقت بھی صرف شریف افسر تم سے ہمدردی کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کر کے فتنہ وفساد کو بڑھنے نہ دیا مگر رذیل حکام پھر بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے اور کہیں گے کیا ہوا اگر دشمن کا تھپڑ اُنہوں نے کھا لیا۔وہ زیادہ تھے اور یہ تھوڑے۔اگر اکثریت سے ڈر کر تھپڑ کھالیا ہے تو یہ کوئی خوبی نہیں۔پس وہ تمہارے صبر کو بُزدلی پرمحمول کریں گے اور تمہاری خاموشی کو کمزوری کی کا نتیجہ قرار دیں گے۔پس تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا بالکل بے سود ہے اور مجھے تمہاری مثالی ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے پہلے زمانہ میں جب یہ معلوم نہ تھا کہ کشمیری فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں۔ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور حکومت انگریزی نے مہا راجہ صاحب جموں سے کہا کہ اپنی فوج میں سے ایک دستہ ہماری فوج کے ساتھ روانہ کر دیں۔اُنہوں نے ایک کشمیری دستہ کو تیار ہو جانے کا حکم دے دیا جب وہ تیار ہو گئے تو کشمیری افسر ایک وفد کی صورت میں مہا راجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے اتنی مدت تک آپ کا نمک کھایا ہے ہمیں لڑائی سے ہرگز انکار نہیں ، ہم ہر وقت کی