خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 143

خطبات محمود ۱۴۳ ۱۶ سال ۱۹۳۷ء امام اور ماموم کا مقام اور اس کے تقاضے (فرموده ۲۸ رمئی ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- غالباً دو جمعے گزرے ہیں کہ میں نے ایک خطبہ اپنے سفر کے دوران میں پڑھا تھا اور ہدایت کی کی تھی کہ اسے فوراً’ الفضل میں چھپنے کیلئے بھجوا دیا جائے۔کیونکہ وہ خطبہ موجودہ فتنوں کے متعلق تھا اور گوی وہ پڑھا سفر میں گیا تھا اور جو لوگ اُس وقت سامنے بیٹھے تھے ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ای قادیان میں نہیں رہتے تھے مگر اُس خطبہ کے پہلے مخاطب قادیان میں رہنے والے لوگ ہی تھے اور میں چاہتا تھا کہ جس قدر جلد ہو سکے اسے قادیان میں رہنے والے لوگوں تک پہنچا دیا جائے تاکہ کم سے کم خدا تعالیٰ کے سامنے میں بری الذمہ ہوسکوں اور اُسے کہہ سکوں کہ میں نے ان کے سامنے ہدایت اور راستی پیش کر دی تھی۔اگر باوجود میرے ہدایت پیش کر دینے کے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو اس کی کی ذمہ واری مجھ پر نہیں ان پر ہے۔میں آج پھر اُسی مضمون کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں اور نہ صرف آپ لوگوں سے بلکہ باہر کی جماعتوں سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات سے بری الذمہ ہوتا ہوں کہ میں نے وہ صداقت آپ لوگوں تک پہنچادی ہے جو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا منشاء اور قرآنی تعلیم ہے۔میں نے اُس خطبہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جو