خطبات محمود (جلد 18) — Page 129
خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۷ء کہ اُن کی تردید کر سکے یا بات کاٹ سکے۔اُس وقت بھی انہوں نے اس طریق پر باتیں شروع کیں۔اس پر ایک بوڑھے نے جو ہمارے پاس ہی بیٹھا تھا جھٹ کہنا شروع کر دیا کہ ہاں حالات واقعی خراب ہیں اور خود تقریر کرنی شروع کر دی اور اس زور شور سے کی کہ ساری مجلس پر سناٹا چھا گیا اور ہر ایک نے کی اُس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا۔اس اثناء میں اُس نے جیل کے قیدیوں کی بے شمار مثالیں پیش کیں کیونکہ وہ داروغہ جیل تھا۔اتنے میں ٹکٹ کلکٹر اس کمرہ میں داخل ہوا۔جب اُس نے اِس سے ٹکٹ طلب کیا تو تو اُس نے فوراً ادھر اُدھر جیبوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا اور آخر کہہ دیا کہ ٹکٹ تو تھا معلوم نہیں کدھر گیا۔مگر ٹکٹ کلکٹر وہاں نہ ٹلا اور اسے ٹکٹ نکالنا ہی پڑا جو تھرڈ کلاس کا تھا اس پر بھولی سی شکل بنا کر کہنے لگا لیجئے ٹکٹ۔میں جھوٹ تو نہیں کہتا تھا۔ٹکٹ کلکٹر نے کہا یہ تو تیسرے درجے کا ٹکٹ ہے اور آپ ڈیوڑھے میں بیٹھے ہیں۔کہنے لگا اچھا ؟ ڈیوڑھا کیا ہوتا ہے؟ گویا وہ یہ جانتا ہی نہیں تھا۔پھر کہنے لگا کہ وہ درجہ کہاں ہے ہے؟ پھر بھولا بنتے ہوئے ٹکٹ کلکٹر سے کہنے لگا کہ اچھا پھر میرا ٹرنک اُٹھالو اور مجھے وہاں لے چلو۔اس پر ٹکٹ کلکٹر نے خیال کیا کہ بوڑھا بالکل ناواقف ہے اور ایک قلی سے کہا کہ اس بوڑھے کا ٹرنک اُٹھاؤ اور تیسرے درجے میں بٹھا دو۔اس شخص نے ٹکٹ کلکٹر کو دھوکا دے دیا لیکن ہم کو تو دھوکا نہ دے سکتا تھا۔اس قسم کا شخص ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے نزدیک لوگوں کو دھوکا دینے کا نام کمال ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص لوگوں میں دیانتدار مشہور ہو جائے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ اچھی بات ہے، میری خواہش پوری ہوگئی اب وہ مزید کوئی جد و جہد نہیں کرتا۔اگر کسی کولوگ پارسا سمجھ لیں تو وہ سمجھتا ہے کہ بس اتنا ہی کافی ہے کیونکہ اس کے نزدیک ذلت سے محفوظ رہنا ہی اصل مقصود ہوتا ہے اور وہ اپنے لئے نیکی کا راستہ بند کر لیتا ہے۔حالانکہ چاہئے یہ کہ وہ خواہ لوگوں میں نیک نام مشہور نہ ہو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں نیک ہو۔کیونکہ نیک نامی بڑی نہیں ہوتی بلکہ نیکی بڑی ہوتی ہے۔اگر پچاس باتوں میں ایک شخص نیک نام پیدا کرے تو یہ کوئی قابل فخر امر نہیں ہے۔لیکن اگر اسے پانچ نیکیاں حاصل ہو گئیں تو یہ افضل ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ہے اگر کوئی شخص دوسروں کو کھول کر اور صرف ہمیں یادرکھ کر نیکیاں کرتا ہے تو خدا اس کی امداد کرتا ہے۔لیکن جو محض نیک نام بننا چاہے خدا اُس کی امداد نہیں کرتا۔پس حقیقی نیکی کی خواہش رکھنی چاہئے کہ خدا کی نظر میں انسان نیک ہے اور اگر ایسی کوشش نہ