خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ سال ۱۹۳۷ء کہ منافق کے اندر بڑائی اور کبر ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے میں ہی بڑا ہوں، وہ اپنی عزت چاہتا ہے۔لیکن مومن خدا کی عزت چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ بھی منافق کی نظروں میں ہی اس کے نفس کو بڑا اور مومن کی نگاہی میں اس کے نفس کو چھوٹا کر کے دکھاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر کامل ایمان روشنی ہے اور نفس ایک سیا ہی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دل پر ایک سیاہ داغ ہوتا ہے جو شخص نیک کام کرے اُس کی سیاہی گھٹتی اور سفیدی بڑھتی جاتی ہے حتی کہ سارا دل اُس کا سفید ہو جاتا ہے۔لیکن جو ریاء سے کام لیتا ہے اور کبری پسند ہوتا ہے، اُس کے دل کی سفیدی کم ہوتی اور سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتی کہ اس کا تمام دل سیاہ ہو جاتا ہے۔کے تم جو منافق نہیں ہو یہ مت سمجھو کہ تم نفاق کے خطرہ سے محفوظ ہو۔مسلمانوں پر زوال اسی وجہ سے آیا کہ ان میں کروڑوں منافق بن گئے۔وہ اسلام کا دعویٰ تو بے شک کرتے تھے مگر حقیقی محبت اسلامی باقی نہیں رہی تھی۔وہ اپنے نفسوں کو مقدم کرنے لگے اور اُن کے دلوں میں عجب اور کبر آ گیا۔ایسے لوگ اپنے آپ کو خواہ کتنا بڑا کیوں نہ سمجھیں اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف ہے۔آپ فرماتے ہیں مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ کی ایک بڑی لمبی نالی ہے جو کئی کوس تک چلی جاتی ہے اور اس نالی پر ہزارہا بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں۔اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سر نالی کے کنارہ پر ہے ، اس غرض سے کہ تا ذبح کرتے وقت ان کا خون نالی میں پڑے اور باقی حصہ ان کے وجود کا نالی سے باہر ہے اور نالی شرقاً غر با واقع ہے اور بھیڑوں کے سر نالی پر جنوب کی طرف رکھے گئے ہیں اور ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے۔اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو ہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں اور میں اس میدان میں شمال کی طرف پھر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ ان لوگ جو دراصل فرشتے ہیں ، بھیڑوں کو ذبح کرنے کیلئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے اور تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعاءُ كُم یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے۔اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو اور میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت ہوگئی۔گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے۔تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیڑوں پر ھریاں پھیر دیں اور پھر یوں کے لگنے سے بھیڑوں نے ایک دردناک طور پر تڑپنا شرور تب ان