خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 91

خطبات محمود ۹۱ سال ۱۹۳۷ء تھوڑے لوگ جماعت میں داخل ہیں اور وہ بھی تمام ہندوستان میں پھیلے ہوئے۔اس وجہ سے ان میں باہم جوڑ ہونا مشکل ہوتا ہے اور ابھی تک ہماری جماعت اس مقام پر نہیں پہنچی کہ قومیت کی پابندیوں سے آزادی حاصل کر سکے۔جب بھی رشتہ کا سوال پیدا ہوتا ہے یہی کہا جاتا ہے کہ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ ی سیدوں میں ہی رشتہ کریں گے یا ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم رشتہ جائوں میں کریں گے یا ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ ہم رشتہ راجپوتوں میں کریں گے یا قریشیوں میں کریں گے یا پٹھانوں میں کریں گے اور بہت ہی کم لوگ اس و پابندی کو توڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔میں نے خود اپنی قوم کو چھوڑ دیا کیونکہ اول تو مغل جماعت احمدیہ میں بہت ہی کم داخل ہیں۔دوسرے ہمارا خاندان جو احمدیت میں قدرتاً ایک نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ہماری وہ لڑکیاں جو غیر رشتہ داروں سے بیاہی گئی ہیں وہ سب غیر مغلوں سے ہی بیاہی گئی ہیں اس لئے ہم کی پر یہ اعتراض نہیں پڑتا۔غرض اب تک ہماری جماعت کے اکثر افراد اسی مرض میں مبتلا ہیں کہ اپنی قوم میں ہی رشتہ ہو۔اور یا پھر کسی ایسی قوم میں ہو جو ان کے خیال میں ان کی قوم کی ہم رتبہ ہو۔مگر چونکہ احمدیت میں قو میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آئی ہیں، اس لئے مشکلات پیش آتی ہیں۔فرض کر ولدھیانہ کا ایک پٹھان سلسلہ میں داخل ہوا ہے، ایک پٹھان گجرات کا اور پانچ سات پشاور کے احمدی ہو گئے ہیں۔اب فرض کرو پشاور کے دوست تو باہم رشتہ داریاں قائم کر لیتے ہیں۔گجرات والا پٹھان کہتا ہے کہ چلو جب احمدی ہو گئے تو قومیت کی پابندی کیسی۔اگر اپنی قوم میں رشتہ نہیں ملتا تو نہ سہی کسی اور قوم میں کر لیتے ہیں۔اب لدھیانہ والا اکیلا رہ گیا اگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے گا تو یقیناً مشکلات میں پھنسے گا۔تیسری وقت میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ ہماری جماعت میں اُمنگ بڑھانے کی جو تحریک کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم دنیا کے راہنما ہو، مصلح ہو ، ہادی ہو، معلم ہو، دنیا کی تمام بادشاہتیں تمہارے قبضہ میں آئیں گی ، اس سے جو تو دیندار ہوتے ہیں اور روحانیت بھی ان میں غالب ہوتی ہے وہ اس کا مطلب کی یہ لیتے ہیں کہ ہمیں قربانیاں زیادہ کرنی چاہئیں۔لیکن جن لوگوں کو روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہوتا ہے وہ ان باتوں کوسن کر کبر کی روح لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب ہم اتنے بڑے ہیں تو اور بڑے لوگوں کے ساتھ رشتہ داریاں کر کے ہمیں اپنے آپ کو اور بھی بڑا بنانا چاہئے۔چنانچہ اگر اپنی سو روپیہ نخواہ ہو تو لڑکی کیلئے ایسے خاوند کی خواہش کرتے ہیں جو ۳ ۴ سو لینے والا ہو اور اگر خود ۳ ، ۴ سو لے رہے ہوں تو پھر کمی سے کم ایک ہزار والے کی جستجو کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو تو مخلص ہے وہ جب کوئی بڑا رشتہ