خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 646

خطبات محمود ۶۴۶ سال ۱۹۳۷ء دو چار کا نام لے دیا اور کہا کہ یہ اور کچھ اور ہیں۔حضرت عائشہ نے پردہ کھینچ دیا اور اجازت دے دی۔چنانچہ یہ اندر گئے اور ساتھ ہی وہ بھانجا چلا گیا اور پھر پردے کے اندر جا کر آپ سے لپٹ گیا اور معافی مانگنے لگا۔حضرت عائشہ نے اسے معاف تو کر دیا مگر اس کے بعد جو غلام بھی آپ کے پاس آتا اُسے آزادی کر دیتیں اور فرماتیں کہ میں نے کہا تھا کہ کچھ صدقہ کروں گی۔اب مجھے کیا علم ہے کہ خدا تعالیٰ کے کی نزدیک کچھ کی حد بندی کیا ہے؟ کے تو یہ کتنی نادانی کی بات ہے کہ لوگ کچھ کے فرق کو بے حقیقت سمجھتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے کچھ کا فرق انسانی کچھ کے مقابلہ میں ذرہ اور سورج کا فرق ہے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ای خاک کا ذرہ ہو اور سورج نہ ہو۔ابو جہل بھی انسان تھا اور محمد رسول الله الا اللہ بھی انسان تھے۔مگر کیا تم یہ ان پسند کرتے ہو کہ تم ابو جہل بن جاؤ۔پھر رسول کریم ﷺ بھی انسان تھے اور وہ مسلمان بھی جو ہمیشہ غلطیاں کی کرتے اور جھاڑیں کھایا کرتے تھے۔پھر کیا تم اس وجہ سے رسول کریم ہے کے مثیل بننے کی کوشش نہ کرو گے کہ دوسرے بھی انسان تھے۔اگر جنازہ پڑھا جانا ہی معیار ہے تو رسول کریم ﷺ کا بھی جنازہ پڑھا گیا تھا اور ایک ادنی مسلمان کا بھی پڑھا جاتا ہے پھر کیا دونوں ایک ہی ہیں؟ کیا یہی جنازہ ایک معیار ہے۔تو ی بعض لوگوں کا نقطہ نگاہ یہی ہوتا ہے۔ہر بات کے متعلق وہ یہی کہہ دیتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوئی تو کیا ہم احمدی نہ رہیں گے۔جب دیکھتے ہیں کہ کسی بات پر وہ شدید گرفت کے نیچے نہیں آئیں گے تو اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔مگر صحابہ کا نقطہ نگاہ اس کے بالکل اُلٹ تھا۔ایک صحابی ایک دفعہ کسی جنازہ کے پاس سے گزرے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کسی کا جنازہ ادا کرنے اور پھر دفن تک ساتھ رہے تو اسے اُحد کے پہاڑ کے برابر ثواب حاصل ہوتا ہے۔یہ سن کر انہوں نے افسوس سے کہا کہ ہم نے تو کئی اُحد ضائع کر دئیے۔کے یہ اعلیٰ درجہ کی قربانیوں میں سے تو نہیں مگر یہ بات سن کر وہ برداشت نہ کر سکے۔اور یہ اُحد بھی تو صرف سمجھانے کیلئے کہا گیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا ثواب تو ساری دنیا کے پہاڑوں سے بھی بھاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم ادنی درجہ کے مومن کو بھی جو انعام دیں گے وہ زمین و آسمان کے برابر ہوگا۔پس یہ خیال کہ بعض نیکیاں اگر چھوٹ جائیں تو کیا حرج ہے کافر اور منافق بنانے کیلئے کافی ہوتا ہے ہے۔یوں کوئی چھوٹ جائے تو علیحدہ بات ہے مگر اس نیت سے نہ چھوڑے کہ یہ معمولی بات ہے۔یہ صحیح