خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 645

خطبات محمود ۶۴۵ سال ۱۹۳۷ء بڑا آدمی تھا، میں نے خیال کیا کہ یہ ایسی ہی مثال سے سمجھے گا۔میں نے کچھ روپے نکال کر رکھ دیئے اور کہا کہ گلی میں چل کر مجھے دو تین جوتے مار لینے دیں اور یہ روپے لے لیں۔اس پر وہ بہت غصہ میں آیا اور کہنے لگا کہ تم مولوی لوگ ایسے ہی بد تہذیب ہوتے ہو ، یونہی عالم بنے پھرتے ہو۔میں نے کہا کہ اگر واقعی تم اس بات کو پسندیدہ سمجھتے ہو کہ اگلی پچھلی مخلوق کے سامنے دوزخ کی سزا برداشت کر کے جنت لے لو تو پھر گلی میں چل کر چند آدمیوں کے سامنے جوتے کھا کر انعام کیوں نہیں لیتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم نے جو بات کہی تھی وہ جھوٹ تھی۔دراصل تم اس کیلئے تیار نہیں ہو۔تو کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو یہی خیال کرتے رہتے ہیں کہ چلو یہ بات نہ کی تو کیا احمدی نہ رہیں گے۔مجھے یاد ہے جب مولوی محمد احسن صاحب فوت ہوئے اور میں نے ان کا جنازہ پڑھا تو بعض لوگوں نے مجھے لکھا کہ جب آپ نے ان کا بھی جنازہ پڑھ لیا تو پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے لوگوں کے خیال میں مدارج کا فرق کوئی فرق ہی نہیں ہوتا۔حالانکہ بیعت اور عدم بیعت کا فرق تو الگ کی رہا رنگ میں اگر اُنیس بیس کا فرق ہو تو وہ بھی فرق ہی ہوتا ہے۔گورنمنٹ بی۔اے پاس لوگوں کو بھی ای نوکریاں دے دیتی ہے مگر کیا پھر لوگ ایم۔اے پاس کرنا چھوڑ دیتے ہیں؟ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میں فرق ی تھوڑا ہی ہوتا ہے مگر کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ لوگ پھر کمشنری کا خیال ہی چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہی ہیں کہ اگر کچھ فرق ہے تو کیا ہوا۔اور جب دنیا میں کچھ فرق کا خیال نہیں چھوڑا جا سکتا اور بندوں کا کچھ بھی بڑا سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا کا کچھ ہی ایسا بے حقیقت ہے کہ اس کا خیال نہ کیا جائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک بھانجے تھے۔آپ ایک دفعہ ان پر ناراض ہوئیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چونکہ کوئی اولاد نہ تھی اور ان کی جائیدا درشتہ داروں میں ہی تقسیم ہوئی تھی۔اس بھانجے نے کہیں کہہ دیا کہ یہ سخاوت بہت کرتی ہیں، انہیں روکنا چاہئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو بہت ناراض ہوئیں اور قسم کھائی کہ میں آئندہ کبھی اس کی شکل نہ دیکھوں گی اور اگر دیکھوں تو کچھ صدقہ کروں گی۔اس ناراضگی پر کچھ عرصہ گزر گیا تو اس بھانجے نے بعض صحابہ سے کہا کہ ناراضگی دور کرا دو۔انہوں نے کہا کہ ہم اتنا کر دیں گے کہ تمہیں اندر لے جائیں۔کیونکہ بغیر اذن کے وہ اندر نہ جا سکتے تھے۔آگے اندر جا کر تم اپنی خالہ سے لپٹ جانا اور معافی لے لینا۔چناچہ چھ سات صحابہ مل کر گئے اور دروازہ پر جا کر اجازت مانگی۔حضرت عائشہ نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے