خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 631

خطبات محمود ۶۳۱ سال ۱۹۳۷ء مثنوی رومی والوں نے ایک قصہ لکھا ہے معلوم نہیں انہوں نے کہاں سے لیا کہ ایک گڈریا ایک دفعہ جنگل میں کسی درخت کے سایہ کے نیچے بیٹھا تھا کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نے جوش مارا۔چونکہ وہ جاہل تھا یا ممکن ہے وہ جاہل نہ ہو بلکہ عاشق ہوا اور عشق میں عالم اور جاہل کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔عشق انسانی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ عالم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو دوسری صورت میں نہیں کہہ سکتا۔اور اس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت مانی شعلہ زن ہو، دوسرے لوگ نہ ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان باتوں کو بیان کیا جاسکتا ہے۔یہی تصوف کے کے راز کہلاتے ہیں جب عشق انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔پس بالکل ممکن ہے وہ اسی حالت ی میں ہوا اور عشق و محبت کی محویت میں اس کے منہ سے باتیں نکل رہی ہوں یا ممکن ہے اس کا سبب جہالت ہی ہو۔بہر حال وہ لکھتے ہیں وہ ایک درخت کے نیچے بیٹا اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا کہ خدایا! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیری گدڑی میں سے جوئیں نکالا کروں۔تیرے پیروں میں سے کانٹے نکالا کروں۔تجھے اپنی بکریوں کا تازہ تازہ دودھ پلایا کروں۔تجھے دبایا کروں، تیری دل کھول کر خدمت کیا کروں۔غرض وہ اکیلا بیٹھا اس طرح عشق کے راگ نثر میں گا رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اتفاقات پاس سے گزرے اور انہوں نے یہ باتیں سن لیں۔انہیں سخت غصہ آیا اور وہ کہنے لگے نالائق ! تو خدا کی تھی ہتک کرتا ہے۔تیرے نزدیک اللہ میاں نے گدڑی پہنی ہوئی ہے؟ تیرے نزدیک اسے جوئیں پڑی ہوئی ہیں؟ اور یہ کہتے ہوئے اسے اپنا ڈنڈا زور سے مارا۔وہ بے چارا اُٹھ کر بھاگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جوش میں اُس کا تعاقب کرنا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پر وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ ! تو نے ہمارے بندہ کو بڑا دُ کھ دیا۔موسیٰ اُس کی باتوں سے تیرا کیا بگڑتا تھا وہ تو اپنی زبان میں ہم سے اپنے کی عشق کا اظہار کر رہا تھا۔اُس کی تو بولی یہی تھی اور اُس کی سمجھ بھی اتنی ہی تھی۔وہ آپ گدڑی میں رہتا ہے کی اس لئے اس نے ہمارے متعلق بھی یہ فرض کر لیا کہ ہم گدڑی میں رہتے ہیں۔اس کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی نعمت بکریوں کا تازہ دودھ ہے سو یہی نعمت اس نے ہمارے سامنے پیش کر دی۔وہ خود جب جنگل میں ننگے پاؤں چلتا ہے تو اس کے پاؤں میں کانٹے چبھ جاتے ہیں اور اس کے محبوب یعنی بیوی بچے بھی جب ننگے پاؤں پھرتے ہیں تو اُن کے پاؤں میں کانٹے چبھ جاتے ہیں اور وہ انہیں بیٹھ کر نکالا کرتا ہے۔سواس نے ہمارے متعلق بھی اسی خدمت کو سرانجام دینا اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔پس اے