خطبات محمود (جلد 18) — Page 630
خطبات محمود ۶۳۰ سال ۱۹۳۷ء کریں۔تو میں سمجھتا ہوں وہ جلسہ سالانہ کے ایام میں بہت بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے ایام میں بعض عورتوں کے بچے گم ہو جاتے ہیں، بعض خبیث طبع لوگ عورتوں کو مخول کردہ کرتے ہیں۔ایسے تمام امور کی نگہداشت کی جائے اور عورت کی عزت اور اس کے احترام میں کوئی خلل نہ آنے دیا جائے۔پس کئی قسم کی خدمتیں ہیں جو تم نکال سکتے ہو اور بیسیوں قسم کی نیکیاں ہیں جو تم پیدا کر سکتے ہو۔اور یا درکھو کہ وہ شخص جس کے دل میں یہ تڑپ ہو کہ وہ نیکی کے نئے سے نئے راستے تلاش کرے اور ہر قسم کی نیکیاں اپنے اندر پیدا کرے اُسی کو صوفی کہتے ہیں۔تم نے سنا ہو گا کہ امت محمدیہ میں فلاں فلاں صوفی گزرے ہیں اور تم حیران ہوتے ہوگے کہ صوفی کسے کہتے ہیں۔سو یا درکھو کہ صوفی وہی ہوتا ہے جو اپنے دل کی صفائی کی مختلف راہیں تلاش کرتا رہتا ہے۔اسی لئے کئی دفعہ نا سمجھ لوگ صوفیاء کو بیوقوف خیال کرنے کی لگ جاتے ہیں۔جیسے حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے جب وہاں پیشاب کیا جہاں رسول کریم ﷺ نے پیشاب کیا تھا تو بعض ظاہر پرستوں نے اس پر اعتراض کیا۔مگر جہاں عشق کا مظاہرہ ہو وہاں انسان یہی کوشش کرتا ہے کہ میں اپنے محبوب کی نقل کروں۔میں خدا اور اُس کے رسول کی صفات کا نقال بن جاؤں۔اور میں دنیا کی ہر خوبی کا نقال بن جاؤں ، اس کا نام تصوف ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے کہ اس سے پہلے خدا رسیدہ لوگوں نے نفلی نمازوں سے خدا کا قرب حاصل کیا تو وہ نماز پڑھنے لگ جاتا ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے کہ انہوں نے نفلی روزے رکھ کر وصالِ الہی حاصل کیا تو وہ روزے رکھنے لگ جاتا ہے۔وہ اگر کی دیکھتا ہے کہ انہوں نے صدقہ و خیرات سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کی تو وہ صدقہ دینے لگ جاتا ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے کہ انہوں نے نفلی حج سے برکت حاصل کی تو وہ حج کرنے لگ جاتا ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے ج کہ انہوں نے علم پڑھایا تو وہ لوگوں کو علم پڑھانے لگ جاتا ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کی تو وہ اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرنے لگ جاتا ہے۔غرض جس جس رنگ میں وہ کسی بزرگ کو نیکی میں رنگین پاتا ہے وہی رنگ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے۔وہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر نہیں چھوڑتا بلکہ کہتا ہے کہ میں یہ بھی لے لوں اور وہ بھی لے لوں وہ خدا اور اس کے رسول کا عاشق ہوتا ہے اور عشق و محبت کا ترانہ دنیا کے ترانوں سے جُدا گانہ ہوتا ہے۔دنیا کی نگاہوں میں وہ پاگل ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ پاگل نہیں ہوتا بشر طیکہ وہ شریعت اور وقار کو چھوڑنے والا نہ ہو۔