خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 628

خطبات محمود ۶۲۸ سال ۱۹۳۷ء محفوظ کر دینے والی بات ہوتی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جلسہ سالانہ کے ایام میں کئی قسم کی خدمات انسان کر سکتا ہے۔یہی نہیں کہ کھانے کے وقت مہمانوں کو کھانا کھلایا اور پھر کام ختم ہو گیا بلکہ کھانا کھلانے کے علاوہ مہمانوں کے متعلق اور بھی ایسی کئی خدمات ہوسکتی ہیں جن سے انہیں فائدہ ہوسکتا ہے۔مثلاً وہ بازاروں میں پھرتا رہے اور دیکھتا رہے کہ کوئی مسافر بھولا ہوا تو نہیں پھر رہا اور اگر اسے معلوم ہو کہ کوئی ای - مہمان اپنا مکان بھول گیا ہے یا اسے علم نہیں کہ میری جماعت کا کمرہ کون سا ہے تو ایک یہ بھی خدمت ہے کہ اسے صحیح جگہ پہنچا دیا جائے۔یا عورتیں گلیوں میں پھرتی رہتی ہیں اور مردان کا قطعاً لحاظ نہیں کرتے۔وہ چاروں طرف پھیل جاتے ہیں اور عورتوں کے گزرنے کا کوئی رستہ نہیں رہتا۔اگر یہی خدمت بعض لوگ اپنے ذمہ لے لیں کہ گلیوں اور راستوں میں سے مردوں کو ایک طرف سے گزاریں اور عورتوں کو دوسری طرف سے تو میں سمجھتا ہوں اس کا انہیں بہت بڑا ثواب ہو۔مگر ہمارے ملک میں عورت پر رحم بہت کم ہوتا ہے حالانکہ اسلام۔نے عورتوں کا بڑا بھاری خیال رکھا ہے۔رسول کریم ہے جب سفر پر جاتے اور صحابہ اونٹوں کو دوڑاتے تو آپ فرماتے رِفقًا بِالْقَوَارِير - رِفقًا بِالْقَوَارِير " ارے شیشوں کا بھی خیال رکھنا۔ارے شیشوں کا بھی خیال رکھنا۔اور آپ کا مطلب یہ ہوتا کہ اونٹوں پر عورتیں بھی سوار ہیں۔وہ تمہاری طرح اونٹ تیز نہیں دوڑ سکتیں ، ان کا بھی خیال رکھو۔لیکن اب ایک عجیب قسم کی ذہنیت پیدا ہوگئی ہے کہ لوگ کمزور پر طاقت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ طاقت مضبوط کے مقابلہ پر ظاہر کی جائے تبھی اس سے شان ظاہر ہوتی ہے۔میری خلافت پر قریباً ۲۴ سال گزر چکے ہیں اور اس عرصہ میں میں نے بار ہا جماعت کو سمجھایا ہے کہ کمزوروں پر رحم کرو اور عورتوں پر اپنی طاقت مت جتلاؤ۔مگر میری اس قدر مسلسل نصائح کے باوجود حالت یہ ہے کہ جو لوگ میرے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں ، وہ نہ معلوم اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ جب راستہ میں کوئی عورت آجاتی ہے تو اسے انتہائی تحکمانہ لہجے کی میں کہتے ہیں ”مائی ہٹ جاؤ ” مائی ہٹ جاؤ“۔گویا مائی کوئی رستم پہلوان یا اسفند یار ہے جسے انہوں نے راستہ سے ہٹانا ہوتا ہے۔مجھے ۲۴ سال سمجھاتے سمجھاتے گزر گئے کہ اگر کوئی عورت آگے سے آ رہی ہو تو بجائے اُسے ہٹانے کے خود راستہ کاٹ کر گزر جاؤ مگر اب تک اصلاح ہونے میں نہیں آتی۔آج بھی ہے جب میں خطبہ پڑھانے کیلئے نکلا تو میرے آگے آگے کوئی صاحب تھے جن کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تھی سوٹی تھی جسے وہ ہلاتے جاتے تھے اور عورتوں کو کہتے جاتے تھے کہ ہٹ جاؤ ہٹ جاؤ۔آخر میں