خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 610

خطبات محمود ۶۱۰ سال ۱۹۳۷ء کو پہنچے گا یا کم سے کم جب تک ہم اس سکیم کو باہر نہ پھیلا سکیں ، یہاں کی غریب عورتوں کو ہی اس وقت فائدہ پہنچ سکے گا۔پس انہیں سمجھنا چاہئے کہ ان کے فائدہ کی جوسکیم ہے اس میں وہ شوق اور قربانی سے لیں۔اگر تھوڑی مزدوری ہے تو بھی ان کو کوئی نقصان نہیں کیونکہ تھوڑی مزدوری سے یہی ہوگا کہ کام میں کی نفع زیادہ ہوگا اور یہ نفع سب کا سب ان پر ہی خرچ ہو گا۔کیونکہ میں نے لجنہ اماءاللہ سے کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی نفع ہو تو سلسلہ اس میں سے کوئی حصہ نہ لے گا بلکہ یہ نفع بھی غرباء میں تقسیم کیا جائے گا۔بلکہ نفع کی صورت میں راس المال کو میں اِنشَاءَ اللہ بڑھاتا جاؤں گا تا یہاں ایک بھی ایسی لاوارث یا بیوہ عورت کی نہ رہے جو بیکار ہو اور جو اپنا گزارہ اچھی طرح نہ چلا سکے۔مگر چونکہ میرے ساتھ تعاون نہ کیا گیا اس لئے یہ کام اچھی طرح نہ چلا۔پس اس کا کے چلانے کیلئے قادیان والوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔اس طرح دوسرے کاموں میں بھی تعاون کی ضرورت ہے۔کیا ہمارے پیشہ وروں میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو کچھ وقت خرج کر کے ہماری مدد کر سکیں ؟ ہمیں تو یہ پتہ نہیں کہ یہ کام کس طرح جلدی سکھائے جا سکتے ہیں اور کس طرح ان میں بچتیں ہوسکتی ہیں۔ہماری مثال تو ان کاموں میں ایسے ہے جیسے کوئی شخص اندھیرے میں ہاتھ مارے خواہ اُس کا ہاتھ سانپ پر پڑ جائے خواہ ہیرے پر۔اس لئے ضروری ہے کہ پیشہ ور دوست تعاون کریں اور ان کاموں کو اپنا رقیب نہ سمجھیں۔کیونکہ یہ ان کیلئے بھی نفع کا ہی موجب ہوں گے ، نقصان کا کی نہیں۔اگر یہ محکمے ترقی کریں گے تو اس میں ان کی اولادوں کی بھی بہتری ہوگی۔کیونکہ پیشہ ور لوگوں کی اولادیں ہی زیادہ تر یہ کام سیکھتی ہیں، کسی کو کیا پتہ ہے کہ کل ہی اس کی موت ہو جائے اور اس کی اولاد کو کی اس کی ضرورت پیش آجائے۔یہ محکمے تو اس امر کی ضمانت ہیں کہ کل اگر اس کی اولاد کو ضرورت ہو تو اس کے کام آئیں گے۔پس پیشہ ور دوست اپنے اوقات خرچ کر کے مشورے دیں اور امداد کریں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ان کا موں کو ترقی حاصل ہو جائے۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ جب کسی کا جتھا بن جائے تو اس کی پیشہ کوترقی ہوتی ہے نقصان نہیں۔دیکھو! ایک گھر کا ملازم اگر کام چھوڑ دے تو کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا۔لیکن اگر کسی کارخانہ کے مزدور کام چھوڑ دیں اور سٹرائیک کر دیں تو گورنر تک اُن کو منانے کیلئے آتے ہیں۔پس یہ بیوقوفی کی بات ہے کہ اگر ترکھان بڑھ جائیں گے تو مجھے کام کہاں سے ملے گا۔وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آبادی بھی اُس وقت تک بڑھ جائے گی اور اس کیلئے کام بھی بڑھ جائے گا۔مثلاً اگر کوئی یہ خیال کرے کہ