خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 606

خطبات محمود ۶۰۶ سال ۱۹۳۷ء مل سکے ہیں وہ سائل نہیں اور اس کا حق ہے کہ جماعت اس کی امداد کرے۔لیکن جو اس خیال سے کام ہی نہیں کرتا کہ دو روپے میں اس کا گزارہ نہیں ہوسکتا اور پھر خواہش رکھتا ہے کہ اس کی ضرورتیں جماعت پوری کرے وہ سائل ہے اور سوال کو روکنے کی اسلام نے حد درجہ کوشش کی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اپنی ذمہ واری کو سمجھیں گی اور کوشش کریں گی کہ اس معیار کے مطابق جو چندہ کا میں نے مقرر کیا ہے چندہ دیں۔میں جانتا ہوں کہ اگر میں یہ تحریک کرتا کہ کی گزشتہ سال جتنا چندہ دیا گیا ہے اُس سے زیادہ دیا جائے تو جماعتیں یقیناً زیادہ دیتیں۔مگر اب کے میں نے کم کیلئے کہا ہے۔بعض لوگ سُستی کریں گے اور خیال کر لیں گے کہ شاید اب ایسی ضرورت نہیں رہی۔اقوام جب کمی کی طرف آتی تو اُس وقت اُن کا قدم تنزل کی طرف اُٹھا کرتا ہے۔اس لئے یہ سال چندہ کی کے لحاظ سے نازک سال ہے۔کیونکہ کئی لوگ کمی کا نام سن کر ہی خیال کر لیں گے کہ اب ضرورت نہیں اس لئے کمی کے وقت ہمیشہ یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ بالکل بند ہی نہ ہو جائے۔تحریک جدید کے سب سے پہلے سال میں ایک لاکھ سات ہزار روپیہ کا وعدہ ہوا تھا اور اس سال بھی میں نے کہا ہے کہ اتنی ہی رقم جمع کی جائے۔اگلے سال اس سے دس فیصدی کم یعنی ۹۶۰۰۰ ، اس سے اگلے سال اس سے دس فیصدی کم اور اس طرح یہ رقم کم ہوتی جائے گی۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کمی کے لفظ کے ساتھ ہی سستی پیدا ہو جاتی ہے۔اگر میں اس سال گزشتہ سال سے زیادہ کی تحریکی کرتا تو میں سمجھتا ہوں مجھے اس کے متعلق دوسرے خطبہ کی ضرورت پیش نہ آتی اور لوگ خود بخود ہی خیال کر لیتے کہ ابھی تک نازک وقت موجود ہے۔پہلے سال ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے ہوئے تھے ، دوسرے سال ایک لاکھ سترہ ہزار کے اور تیسرے سال ایک لاکھ ۴۵ ہزار کے اور اگر چہ یہ پورے وصول نہیں ہوئے مگر بہر حال وصولی میں بھی ہر سال پہلے سال سے زیادتی ہوتی چلی گئی ہے اور اگر اب بھی ج زیادہ کی تحریک ہوتی تو یقیناً دوست زیادہ جمع کر دیتے۔مگر کمی کی طرف آنے کی وجہ سے خطرہ ہے کہ سستی نہ کریں۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے بقائے صاف کر دیں اور یا پھر معاف کرا لیں۔اگر وہ ادا کر سکتے ہوں تو اب بھی کر دیں۔اگر چہ اب ادائیگی کا ثواب اتنا تو نہیں ہوسکتا مگر اب بھی ادا کر کے وہ گناہ سے بچ سکتے ہیں اور یقیناً کچھ تو اب بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اور جو ادا نہ کر سکتے ہوں کم سے کم معاف ضرور کرالیں۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اس طرح ایک تو وہ گناہ سے بچ