خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 602

خطبات محمود ۶۰۲ سال ۱۹۳۷ء ہے۔لوگ یہی کہتے ہیں کہ سب سے پہلا فقیہہ جو آیا تھا اس نے ہمیں یہی بتایا تھا۔پس ضروری ہے کہ ایسے مبلغ ہوں جو دین کے پورے ماہر ہوں ( مجھے یاد آیا یورپ میں تین نہیں بلکہ چار مشن تحریک جدید کے ماتحت قائم ہیں۔پولینڈ البانیہ ، ہنگری اور اٹلی۔اور ان سب پر اس خرچ سے آدھے سے بھی کم خرچ ہوتا ہے جو انگلستان کے مشن پر ہوتا ہے )۔تو ہمیں اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ ایسے آدمی مہیا کریں جو دین کے بھی ماہر ہوں اور غیر ملکی زبانیں بھی جانتے ہوں اور اس مینی کیلئے ہمیں ایک خاص حکیم تیار کرنی پڑے گی۔یا تو ایسے آدمیوں کو جو مولوی ہوں انگریزی پڑھانی پڑے گی اور یا پھر انگریزی دانوں کیلئے عربی اور دینیات کی تعلیم کا انتظام کرنا پڑے گا۔پہلے تو جو بھیجے گئے ہیں وہ اسی نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھ کر بھیجے گئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام جہاں جہاں بھی ممکن ہو جلد سے جلد پہنچایا جائے۔اس لئے فوراً جو مل سکے وہ بھیج دیئے گئے تا وہ نام پہنچا ئیں اور تعلیم دینے والے بعد میں آئیں گے۔اس وقت جو پانچ مشن مغربی ممالک میں ہیں ان میں سے دو میں تو مولوی فاضل مبلغ کام کر رہے ہیں اور تین انگریزی دان ہیں جنہیں دینی تعلیم حاصل نہیں اور ہم نے اُن کو یونہی بھیج دیا ہے۔ان کی جگہ ہمیں ایسے لوگ بھیجنے ہوں گے جو عالم ہوں اور ان کو بلا کر یا تو فارغ کرنا پڑے گا اور یا ایسے رنگ میں ان کو تعلیم دینی پرے گی کہ وہ پھر واپس جا کر مشن کا چارج لے سکیں۔نئے مشنوں کیلئے ہمیں ابھی سے انتظام کرنا چاہئے کہ یا تو مولوی انگریزی پڑھ سکیں اور یا پھر انگریزی دان عربی اور کی دینیات کی تعلیم حاصل کر سکیں اور یہ سالہا سال کا مسلسل کام ہے۔اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اکثر ممالک میں تین چار سال کے عرصہ میں مفت مشن کھول سکیں گے۔اب بھی کئی جگہ مبلغین یا تو کلی طور پر اپنا خرچ خود برداشت کر رہے ہیں یا کچھ ہم دیتے ہیں اور باقی وہ خود کماتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ کچھ مزید تجربہ کے بعد کوئی نہ کوئی صورت ایسی پیدا ہو جائے گی کہ مبلغین اپنے گزارے آپ کر سکیں۔صرف تبلیغی لٹریچر یا مبلغین کی ٹرینگ ہمارے ذمہ ہوگی۔ان ان کے علا وہ ہندوستان کیلئے ہمیں پیشہ ور مشنری تیار کرنے ضروری ہیں اور یہ چمڑے کے کام ، بوٹ سازی وغیرہ اور لو ہار ترکھان کے کام سکھانے کیلئے جو کارخانہ جاری کیا گیا ہے اس کی غرض یہی ہے کہ ہم اچھے بوٹ ساز ، اچھے لوہار اور اچھے ترکھان پیدا کریں جو دین کے بھی عالم ہوں۔تا وہ جہاں جائیں ، خواہ ونی بسلسلہ ملازمت یا اپنے طور پر کام کرنے کیلئے وہ اچھے عالم اور مبلغ بھی ہوں۔اس میں شک نہیں کہ ایسے