خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 600

خطبات محمود ۶۰۰ سال ۱۹۳۷ء کے فضل سے بہت ہی کامیابی ہو رہی ہے۔وہاں کا مشنری خود محنت کر کے اپنا گزارہ کرتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک مخلص جماعت عربوں کی بھی ایسی دے دی ہے جو چندہ دیتی ہے اور ان کا چندہ اب یہاں بھی آنا شروع ہو گیا ہے اور امید ہے کہ وہاں جلد ترقی ہوتی جائے گی۔کیونکہ وہاں ایک خاصی تعداد عربوں کی ہے جو سلسلہ کی طرف متوجہ ہیں۔ان کے علاوہ چین میں، جاپان میں اور سٹریٹ سیٹلمنٹ میں بھی ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور دود و مبلغ وہاں کام کرتے ہیں۔اور پھر مصرا اور افریقہ میں بھی مبلغین پہنچ چکے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے خرچ پر ہی کام کر رہے ہیں یا برائے نام امداد لیتے ہیں اور بعض تو گئے بھی اپنے خرچ پر ہیں۔جن مبلغوں کو خرچ جاتا ہے انہیں بھی ہماری ہدایت یہ ہے کہ خرچ بہت ہی کم کریں۔ان کے علاوہ کچھ مشن ہندوستان میں بھی تحریک جدید کے ماتحت قائم ہیں۔مثلاً دیر و وال ضلع امرتسر میں یا مکیریاں ضلع ہوشیار پور میں، ایک مشن کراچی میں ہے۔ان میں بعض لوگ کی برائے نام گزارہ پر کام کرتے ہیں اور باقی جماعت کے دوست مہینہ مہینہ یا ہمیں ہیں یا دس دس دن جا کر کام کرتے ہیں۔ان مشنوں کے علاوہ انگریزی لٹریچر کی ضرورت کو بھی پورا کیا جا رہا ہے۔انگریزی اخبار ایک سن رائز لا ہور سے اور ایک مسلم ٹائمز لندن سے شائع ہوتے ہیں۔ان میں سے بالخصوص سن رائز کی ضرورت اور اہمیت کو بہت محسوس کیا جارہا ہے۔اور یہ پرچہ اگر چہ ہمیں قریباً مفت ہی دینا پڑتا ہے مگر فائدہ بہت ہے۔امریکہ سے تو مسلمین نے لکھا ہے کہ یہ اخبار بہت ضروری ہے اور اسے پڑھ کر ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ بھی جماعت کا ایک حصہ ہیں۔خصوصاً اس میں جو خطبہ جمعہ کا ترجمہ ہوتا ہے وہ ہمارے لئے ایمانی ترقیات کا موجب ہے۔پہلے ہم یوں سمجھتے تھے کہ جماعت سے کٹے ہوئے الگ تھلگ ہیں مگر اب خطبہ پہنچ جاتا ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم بھی گویا جماعت کا ایک حصہ ہیں۔اس کے علاوہ کتا بیں بھی شائع کی جاتی ہیں۔پہلے احمدیت کو شائع کیا گیا اور دو تین اور کتا ہیں اس سال بھی شائع کی جارہی ہیں۔قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ جس کیلئے مولوی شیر علی صاحب ولایت گئے ہوئے ہیں، اس کیلئے بھی تحریک جدید سے ایک معقول رقم علیحدہ کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ غرباء کے لئے کارخانے بھی جاری کئے گئے ہیں تا بیتا مے اور مساکین بچے تعلیم پاسکیں۔اس وقت میں بائیس ایسے طالب علم ہیں جن میں سے بعض کا تو سارا خرچ ہمیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور بعض کو امداد دینی پڑتی ہے اور ان کیلئے دینی تعلیم کا تمام خرچ ہمیں کرنا پڑتا ہے۔یہ ایک