خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 531

خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۹۳۷ء کہ یہ پیڈ ایجنٹ (PAID AGENT) ہیں۔ایک کو مقدمے مل جاتے ہیں اور دوسرے کو خلیفہ وقت کی کے ایک رشتہ دار نے ضمانت دی ہوئی ہے۔اور جب ایسے لوگ مقرر کئے گئے جن پر یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا تھا تو یہ کہ دیا گیا کہ خلیفہ وقت کے سوا ہم کسی کے سامنے بات نہیں کر سکتے۔پس میں نے تو چاہا تھا کہ اگر ہماری جماعت کے کسی فرد کی طرف سے ان پر سختی ہوئی ہو تو اس کا کی ازالہ کروں مگر انہوں نے خود اس کو قبول نہیں کیا۔میں یہ ہر گز نہیں کر سکتا تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے جھگڑوں میں غیر احمد یوں کو حج مقرر کروں۔ہمیشہ اُمت محمدیہ میں امت محمدیہ کے افراد ہی باہمی جھگڑوں کا تصفیہ کرتے رہے ہیں۔اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں۔خلفائے اسلام بھی بعض دفعہ دیوانی مقدموں میں بلائے گئے ہیں۔مگر وہ اُنہی قاضیوں کے پاس گئے ہیں جنہیں انہوں نے خود مقرر کیا تھا۔حضرت عمرؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما پر اگر کوئی دیوانی مقدمہ ہوا ہے تو انہی قاضیوں کے پاس جنہیں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے مقرر کیا تھا۔اس وقت کسی نے نہیں کہا کہ قاضی تو آپ کا اپنا مقرر کردہ ہے اس سے ہم فیصلہ کیونکر کر سکتے ہیں، وہ آپ کی طرفداری کرے گا۔وہ جانتے تھے کہ یہمسلمان قاضی ہیں اور مسلمان قاضی دیانت داری سے ہی کام لیں گے۔ان میں یہ بدظنی نہیں تھی کہ قاضی تو ان کا مقرر کردہ ہے وہ کس طرح صحیح فیصلہ کر سکتا ہے۔اور اگر کسی وقت قوم کی حالت ایسی گندی ہو جائے کہ اُس کا خلیفہ بگڑ جائے اور اُس کے افراد بددیانت ہو جائی تو پھر اس مرض کا علاج کوئی بندہ نہیں کر سکتا اس کا علاج پھر اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔اُس وقت پھر اصلاح کا جی دعویٰ کرنا محض ایک لاف ہے۔اُس کا علاج ایک ہی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے فریاد کی جائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ اگر تمہیں مجھ پر ایسی بدظنی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہ جماعت کو تباہ کر رہا ہے تو تم خدا سے کہو کہ وہ مجھے تباہ کر دے۔بندوں کے پاس چیخ و پکار بالکل بے معنی بات ہے۔مصری صاحب کے اسی ساتھی نے جس کے خط کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے سازش کر کے مستریوں پر حملہ کروایا تھا۔پھر آپ نے سازش کر کے محمد امین کو قتل کروایا اور اب فخر الدین کو مروا دیا ہے۔اور اس کے بعد آپ ہمیں مروانے کی فکر میں ہیں۔مجھے اس قسم کے اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہر غلط الزام کا جواب دینے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا ی فائدہ ہوتا ہے۔لیکن چونکہ خط لکھنے والے نے آئندہ کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے اور میں کسی کو قلق اور اضطراب