خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 499

خطبات محمود صلى الله ۴۹۹ سال ۱۹۳۷ء دیں اور کئی نادان خود تیار ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ تو نبی کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ نمازی تھے۔ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ نمازی بنے لیکن محمد رسول الله خاتم النبین بھی تھے۔اب کوئی کہے میں بھی خاتم النبین بنتا ہوں تو ہر کوئی سے پاگل کہے گا۔نماز میں، روزہ میں ، عفو میں، دوسروں سے اچھا سلوک کرنے کے معاملہ میں ،حسن سلوک میں ، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے میں ہمیں آنحضرت ﷺ کی نقل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مگر خاتم النبین بننے میں نقل کرنا جنون ہے، بے ایمانی ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو خاص حکم دیتا ہے کہ تم اس اس طرح کرو۔ان میں ان کی نقل کرنا حماقت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ تم ہو کیا گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔اب اگر ہم بھی یہ کہتے پھریں تو بد تہذیب کہلائیں گے یا نہیں ؟ نبی تو ایک فیصلہ سناتا ہے، جیسے ایک مجسٹریٹ سناتا ہے کہ تم چور ہو اور میں تم کو چھ ماہ قید کی سزا دیتا ہوں۔لیکن ہم ایسا نہیں کہہ سکتے خواہ کوئی چور ہی ہو ہم اسے چور نہیں کہہ سکتے۔کوئی مجسٹریٹ یہ نہیں کہتا کہ تم بڑے نمازی ہو، پر ہیز گار ہو اس لئے میں تم کو سزا دیتا ہوں۔وہ چور کہہ کر ہی سزا دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی دوسرا کسی کو چور کہے تو اُسے عیب چین اور بد گو کہا جائے گا۔لیکن مجسٹریٹ کہتا ہے تو سب کہتے ہیں کیا انصاف کیا۔پس انبیاء کی کسی ایسی بات کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔میں نے اخبار والوں کو بار ہا توجہ دلائی ہے کہ سخت الفاظ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی مضمون نگار اس بارہ میں دشمنوں کی نقل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ چونکہ وہ بختی کرتے ہیں اس لئے ہم بھی سختی کریں تو وہ غلطی کرتا ہے۔اس صورت میں ہم میں اور دوسروں میں فرق کیا رہے گا۔میں ہمیشہ کسی مخالف کا نام لیتے ہوئے ساتھ صاحب کا لفظ لگاتا ہوں اور عزت سے نام لیتا ہوں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ مجھ میں غیرت نہیں یا مجھے غصہ نہیں آتا۔آتا ہے اور ضرور آتا ہے مگر میں کہتا ہوں " ایاز قدر خود بشناس“ جو رتبہ نبی کا ہے ، وہ اُسی کا ہے اور ہمارا رتبہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔میں نے دیکھا کہ بعض لوگ لکھتے وقت بے احتیاطی کرتے ہیں۔مضمون لکھتے ہیں تو جواب میں سخت لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ دشمن کے بیسیوں الفاظ کے جواب میں یہ ایک لفظ ہم نے لکھا ہے حالانکہ وہ ایک لفظ بھی مناسب نہیں تا۔مظلومیت کا حربہ بہت بڑا حربہ ہے۔دیکھو ! یزید نے حضرت امام حسینؓ کو گالیاں دیں اور بہت ظلم کی کئے لیکن امام حسین نے مظلومیت دکھائی اور نتیجہ دیکھ لو یزید کا کوئی نام بھی نہیں لیتا اور حضرت امام حسین کا