خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 454

خطبات محمود ۴۵۴ سال ۱۹۳۷ء کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا اور اس کیلئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابوبکر ہے اور رسول کریم ہے کے بعد مسلمانوں کی نظر اسی کی طرف اُٹھتی ہے اور وہ اسے دوسروں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اُس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بد نام کر دیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے بلکہ خود رسول کریم ﷺ کی نگاہ سے بھی گرا دیا جائے۔اور اس بد نیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہؓ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر گندہ الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں اشارہ بیان کیا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہی ہے۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کی اس میں یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابو بکر ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم ﷺ سے بھی خراب ہو جائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے لا بدی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں تباہ ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبد اللہ بن ابی بن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا اور بعض لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی کہ میرے ساتھ صلى الله ایک لاکھ سپاہی ہیں میں چاہتا ہوں کہ اپنی تمام جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کرلوں۔رسول کریم عالی و لیلی نے فرمایا اسلام میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کر لو۔وہ کہنے لگا میں بیعت کرنے کیلئے تیار تو ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو خیر اب عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبر دست قوم ہے پس میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔آپ نے فرمایا میں کوئی وعدہ نہیں کرتا۔یہ خدا کا انعام ہے وہ جسے چاہے گا دے گا۔اس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور اپنی تمام قوم سمیت مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔تو مسیلمہ کذاب نے رسول کریم ﷺ کے بعد بادشاہت ملنے کی آرزو کی تھی ، زندگی میں نہیں۔یہی حال عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تھا۔چونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لئے عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی اپنی موت کو دور سمجھتا تھا۔