خطبات محمود (جلد 18) — Page 435
خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۷ء میں اس مضمون کے متعلق کئی آیات بھی بیان کیں مگر جاگنے پر وہ ذہن سے اتر گئی تھیں۔اس پر میں نے غور کرنا شروع کیا کہ وہ آیتیں کون سی تھیں جو میں رویا میں اس مضمون کو ثابت کرنے کیلئے پڑھ رہا تھا اور جن سے اس مضمون کا میں نے استدلال کیا۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے کافی غور کیا مجھے وہ آیتیں سمجھ میں نہ تو آئیں کیونکہ وہ بھول چکی تھیں۔صرف اس تقریر کا آخری حصہ یا د ر ہا تھا جو یہ تھا کہ انبیاء اور خلفاء کی اللہ تعالیٰ سے وابستگی ایسی ہی ہے جیسے شیشے کے ساتھ چوکٹھا ہوتا ہے اور اس کے پیچھے قلعی لگی ہوئی ہوتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔ان کے ذریعہ خدا ظاہر ہوتا ہے اور انہی کے ذریعہ اس کا وجود عالم میں محفوظ رہتا ہے۔غرض میں نے جن جن امور کو رویا میں بیان کیا تھا اُن پر میں نے پھر غور کیا مگر مجھے وہ باتیں یاد نہ آئیں۔گوا بھی جبکہ میں یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام یاد آ گیا جس میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے اور جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی تشریح کی ہے۔گو الفاظ اس کے اور ہیں مگر مفہوم یہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّى وَ أَنَا مِنكَ یا یعنی اسے سورج اور اے چاند تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔اب سورج اور چاند آپس میں ایک خاص نسبت رکھتے ہیں۔سورج براہِ راست روشنی ڈالتا ہے لیکن چاند براہ راست روشنی نہیں ڈالتا بلکہ سورج سے روشنی لے کر دنیا کی طرف پہنچاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ اَنْتَ مِنِّي وَ أَنَا مِنْكَ میں ایک دفعہ خدا نے مجھے سورج قرار دیا ہے اور ایک دفعہ مجھے چاند قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے سورج قرار دیا تو اپنے آپ کو چاند قرار دیا ہے اور جب مجھے چاند قرار دیا ہے تو اپنے آپ کو سورج قرار دیا ہے۔اب یہ جو بات ہے کہ خدا سورج ہے اور بندہ چاند ، یہ بالکل واضح ہے اور ہر سمجھ سکتا ہے کہ بندہ اسی طرح خدا کے نور سے لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے جس طرح چاند سورج سے نور لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے۔مگر یہ جو خدا نے فرمایا کہ تو سورج ہے اور خدا کی ذات بمنزلہ چاند ہے۔یہ بات بظاہر حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہے۔بھلا بندے کی کیا حقیقت ہے کہ وہ سورج کہلائے اور خدا اس کے مقابلہ میں چاند کہلائے۔تو چونکہ یہ بات بظاہر قابل اعتراض نظر آتی تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود دنیا سے مخفی