خطبات محمود (جلد 18) — Page 427
خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۳۷ء سے اور دوسرے حصہ کی دوسروں کی بداعمالیوں پر راضی ہو جانے کی وجہ سے۔غرض کوئی کسی طرح اور کوئی کسی طرح محروم ہو گیا۔دیکھو حضرت مسیح ناصری کو جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اب آپ کے پکڑے جانے کا وقت آ گیا ہے اور اب آپ کو یہ ملک چھوڑ کر کہیں اور جانا پڑے گا اور اس ملک کے لوگوں کے لحاظ سے گویا آپ مر جائیں گے، اُس وقت حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو جمع کیا اور کچھ انگور کا رس اور کچھ روٹیاں منگوا ئیں۔یسوع نے روٹی لی اور برکت مانگ کے توڑی پھر شاگردوں کو دیکھ کر کہا لو کھاؤ یہ میرا بدن ہے۔پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور انہیں دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو کیونکہ یہ میرا لہو ہے۔یعنی اب جب کہ میں تم سے جدا ہونے والا ہوں خدا تعالیٰ کی سنت کے ماتحت میرا گوشت اب تمہارا گوشت ہو جائے گا اور میرا خون تمہارا خون ہو جائے گا۔گویا یہ ایک ظاہری علامت تھی کہ میری جدائی کے باعث اب تم میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ مسیح بنا دے گا۔حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی (یعنی اپنی وفات کی خبر دی ) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘۱۳ قیامت تک اس کا سلسلہ منقطع نہ ہونے کے یہ معنے تو نہیں لئے جاسکتے کہ جماعت احمد یہ قیامت تک بگڑے گی ہی نہیں۔کیونکہ یہ تو سنت اللہ کے خلاف ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الہام کے بھی خلاف ہے۔پھر احادیث نبویہ اور آیات قرآنیہ کے بھی یہ بات خلاف ہے۔یہ بات مسلّمہ طور پر تمام الہامی کتب میں بیان کی گئی ہے کہ قیامت اَشْرَارُ النَّاس پر قائم ہوگی یعنی قیامت کے آنے سے پہلے تمام دنیا گمراہی میں پڑ جائے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کی لکھا اس کے یہی معنے ہیں کہ جب تک میرے مقاصد کے پورا ہونے کا وقت نہیں آتا اُس وقت تک