خطبات محمود (جلد 18) — Page 345
خطبات محمود ۳۴۵ سال ۱۹۳۷ء منہ سے کوئی شخص کہ سکتا ہے کہ میں فلاں کا نوکر ہوں اور یہ کہ میں اپنے آقا سے بڑا ہوں۔جب ایک شخص یہ کہتا ہو کہ میں فلاں کا نوکر ہوں تو اس پر اگر کوئی دوسرا یہ الزام لگائے کہ یہ اپنے آقا سے بڑا ہونے کا دعوی کرتا ہے تو اس الزام کو ون عقلمند تسلیم کر سکتا ہے۔اور یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ ایک طرف وہ کہے میں فلاں کا نوکر ہوں اور دوسری طرف کہے میں اس سے بڑا ہوں۔جب وہ نوکر ہے اور اس کا اقرار ہے کہ کی میں نوکر ہوں تو پھر چونکہ نوکر آقا سے بڑا نہیں ہو سکتا اس کا دعوی یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے آپ کو آقا سے ادنی سمجھتا ہے۔اسی طرح خلفاء کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آقا کا نام دنیا میں روشن کریں۔پس ان کا رتبہ ظلی رتبہ اور ان کی بڑائی ظلی بڑائی ہوتی ہے۔غرض ہماری تمام عزت یعنی خلفاء کی اور ہماری ہر ایک بڑائی اور ہماری ہر ایک خوبی اسی میں ہے کہ ہم اپنے آقا اور مطاع کا نام دنیا میں روشن کریں اور جتنی زیادہ ہم رسول کریم ﷺ کی خدمت صلى الله۔کریں ، جتنا زیادہ ہم رسول کریم ﷺ کا نام دنیا میں روشن کریں اور جتنا زیادہ ہم رسول کریم ہی ہے درجہ دنیا میں بلند کریں اُسی قدر زیادہ ہماری ذمہ داری پوری ہوتی ہے اور اسی میں ہماری عزت ہے۔پس جبکہ ہمارے رتبہ کی بلندی کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ رسول کریم ﷺ کے تابع ہیں تو پھر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ہمیں ( نَعُوذُ باللهِ ) رسول کریمہ سے بھی بلند درجہ رکھنے کا دعوی ہے ، اس سے زیادہ غیر معقول بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ہاں ایک صورت ہے اور اگر کسی احمدی نے کوئی بات کہی ہوگی تو یقینا انہی معنوں میں کہی ہوگی۔یعنی اُس نے یہ کہا ہوگا کہ خدا تعالی کے بعد اس زمانہ کے لوگوں میں سے خلیفتہ اسیح ہمارے نزدیک سب سے بڑے ہیں۔اور اگر کسی احمدی نے ان معنوں میں فقرہ کہا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ اُس نے بالکل درست کہا ہے۔کیونکہ اپنے زمانہ میں جماعت کا امام یقیناً تمام دنیا سے بزرگ ہوتا ہے۔اس صورت میں الفاظ کو ان معانی کا رنگ دے دینا جو کہنے والے کے منشاء کے سخت خلاف ہوں سخت ظالمانہ بات اور تقویٰ کے بالکل خلاف فعل ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا اور غیر احمدیوں کا کئی مسائل میں اختلاف ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا اور عیسائیوں کا کئی مسائل میں اختلاف ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا اور یہودیوں کا کئی مسائل میں اختلاف ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا اور ہندوؤں کا کئی مسائل میں اختلاف ہے۔مگر باوجود ان تمام اختلافات کے ایک چیز ہے جس کی سب سے اُمید کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم انصاف سے کام لیں، سچ بولیں اور شریفانہ طور پر کلام