خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 327

خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۷ء کہ آپ نے ایک متکبرانہ دعویٰ کیا ہے ایسے دعویٰ کا اظہار جو ماضی میں کیا گیا ہو یا حال میں ایک ہی حیثیت رکھتا ہے۔غرض مصری صاحب کی اس دلیل کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ماضی کا تکبر بھی تکبر ہی ہوتا ہے۔دوسرا یہ کہ اس تکبر سے تو بہ انہوں نے کبھی نہیں کی اور تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ یہ دعوئی ماضی کے زمانہ کے متعلق ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ چونکہ آپ کو پتہ تھا کہ میں جو اعتراض آپ پر کروں گا جماعت اس کو ضرور سُنے گی ، اس لئے میرے خلاف اندر ہی اندر پرو پیگنڈا شروع کر دیا گیا۔اور یہ بات معلوم کرنی بالکل آسان ہے کہ میں نے مصری صاحب کے خلاف کب پرو پیگنڈا کیا۔آیا اس خطبہ کے بعد یا پہلے؟ مصری صاحب کہتے ہیں کہ یہ بات کسی گزشتہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہے یعنی دو سال کی قبل۔مگر سوال یہ ہے کہ اس خط سے قبل جو و ارجون کا ہے میں نے ان کے خلاف کون سا پراپیگنڈا کیا تھا۔آپ لوگ اپنے دلوں میں سوچ لیں کہ کبھی میں نے کسی سے کہا کہ شیخ صاحب کی عزت نہ کی جائے یا وہ بُرے آدمی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ خط لکھنے کے وقت تھا کہ جماعت میں ان کو عزت حاصل ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس خط سے قبل جماعت کی کثرت شیخ صاحب سے متنفر ہو چکی تھی تو ان کی بات سچ ثابت ہو جائے گی۔لیکن اگر اتنی بڑی جماعت میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں مل سکتا جو یہ کی کہے کہ میں نے اس سے شیخ صاحب کے خلاف باتیں کیں اور اُس نے اس کے اثر کے ما تحت شیخ صاحب سے نفرت کرنی شروع کر دی تو پھر ان کا یہ دعویٰ خود بخود غلط ثابت ہو جائے گا۔لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میاں فخر الدین صاحب کے اخراج سے چار پانچ ماہ قبل مجھے محکمہ خاص کی طرف سے تین چار رپورٹیں آئیں کہ فخر الدین صاحب ، مصری صاحب اور مصباح الدین صاحب اکٹھے مل مل کر باتیں کرتے ہیں اور اکثر دفعہ مغرب کی نماز بھی باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔تو میں نے ایک رپورٹ پر لکھا کہ میں نے تم لوگوں کو منافقوں اور مخالفوں کی جانچ کیلئے مقرر کیا ہوا ہے ، مصری صاحب کی جانچ کیلئے نہیں اور انہیں زجر کی کہ آئندہ ایسی رپورٹ نہ آئے۔اسی طرح گزشتہ سال ایک دوست نے سندھ سے ان تینوں اور چند اور آدمیوں کے متعلق لکھا کہ یہ ایک ٹریکٹ آپ کے خلاف مخفی طور پر جلسہ کے موقع پر شائع کرنا چاہتے ہیں۔تو میں نے انہیں لکھا کہ میں یہ بات بغیر ثبوت کے نہیں مانتا، آپ گواہ پیش کریں۔گویا فخر الدین صاحب کے اخراج سے چار پانچ ماہ قبل تک اس بات کا تحریری