خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۷ء قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔مگر جب ان کی نگاہ میں یہ شرط پوری نہ ہوئی تو انہوں نے بیعت توڑ دی۔لیکن تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ان کے بیعت توڑنے کے فعل کو اُن کے ساتھیوں نے بھی ناپسند کیا۔چنانچہ ایک شخص سے جب کسی دوسرے شخص نے کہا کہ تم تو حضرت عثمان کے قاتلوں کے مخالف تھے پھر آج حضرت علیؓ کے ساتھیوں میں کیوں شامل ہو گئے؟ تو اُس نے کہا میں اس لئے ان کے ساتھ شامل ہوا ہوں کہ إِنَّهُمْ نَكَثُوا الْبَيْعَةَ - ۱۳ طلحہ اور زبیر نے بیعت کی اور پھر توڑ دی گویا با وجود یکہ ان کی بیعت این جبری بیعت تھی ، پھر بھی ان کے ساتھیوں نے ان کے فعل کو نا پسند کیا اور کہا کہ جب بیعت کر لی تھی تو خواہ ان جبری بیعت تھی پھر بھی اس بیعت کو توڑنا نہیں چاہئے تھا۔غرض ان لوگوں کی مثالوں سے استنباط بالکل غلط ہے۔انہوں نے بیعت یا تو عارضی طور نہ کیج اور پھر کر لی یا پھر جنہوں نے بیعت کی گڑھا کی اور پھر فوراً الگ ہو گئے ، استقرار بیعت کبھی نہیں ہوا۔یا تج پھر انہوں نے بیعت نہ کی مگر خلافت کا مقابلہ بھی نہیں کیا بلکہ صرف یہ کہا کہ اگر فلاں امر ہو جائے مثلاً کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے بدلہ لے لیا جائے تو ہم بیعت کر لیں گے۔جیسے حضرت معاویہ ہیں کہ انہوں نے گو حضرت علی کی اسی وجہ سے بیعت نہیں کی مگر انہوں نے آپ کا مقابلہ بھی نہیں کیا۔غرض تمکین خلافت کے بعد کسی کی مخالفت یا بیعت طوعی کا توڑ نا ہر گز ثابت نہیں اور اگر ہو تو اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فیصلہ یہی ہے کہ فَبَعَی وَ طَغَی۔بعض نادان اس موقع پر کہا کرتے ہیں کہ جب بیعت سے الگ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص غیر احمدی نہیں ہو جاتا تو پھر بیعت نہ کرنا یا بیعت کا تو ڑ دینا کوئی بڑا گناہ تو نہ ہوا۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ ایک خطرناک غلطی ہے۔ایمان کے معاملہ میں جب انسان جان بوجھ کر کہتا ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب اگر چہ گناہ ہے مگر میں نے اگر کر لیا تو کیا حرج ہوا تو وہ ضرور اپنے ایمان کو تباہ کر لیتا ہے۔اگر کوئی شخص مجبوراً یا عا دتا یا جہالتا نادانی سے کوئی گناہ کرتا ہے تو یہ اور بات ہے۔لیکن اگر ایک شخص سمجھتا ہے کہ فلاں امر گناہ ہے اور پھر وہ اسے معمولی بات خیال کر کے اس گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس شخص کو خدا دولت ایمان سے محروم کر کے ہی چھوڑتا ہے کیونکہ وہ باغی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہتک کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تباہی میں بھی بہت بڑا دخل اس امر کا بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹا گناہ ہے اور وہ ان بڑا۔حالانکہ مومن کامل وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ادنیٰ ناراضگی سے بھی ڈرے اور اس کے ارتکاب -