خطبات محمود (جلد 18) — Page 294
خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۷ء کہ گو وہ ہماری جماعت میں نہیں مگر ہیں وہ احمدی ہی۔اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب اور سید محمد احسن صاحب امروہی کے متعلق بھی باوجود یہ کہنے کے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں وہ یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ غیر احمدی ہیں۔جو شخص ۲۳ سال خود یہ محاورہ استعمال کرتا رہا ہو اُس کا بیعت سے الگ ہوتے ہی یہ کہنا شروع کر دینا کہ مجھے جماعت سے الگ قرار دے کر غیر احمدی سمجھا جاتا ہے، سراسر دنیا داری اور چالا کی ہے۔یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا کسی کیلئے مشکل ہو۔تم کسی احمدی بچے کے پاس چلے جاؤ۔ایک سکول کے احمدی طالب علم سے ہی دریافت کر لو کہ کیا مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں ہیں؟ وہ کہے گا نہیں پھر اس سے پوچھو کیا مولوی محمد علی صاحب احمدی ہیں؟ وہ کہے گا ہاں۔بلکہ وہی طالب علم جنہیں وہ پڑھایا کرتے تھے ان سے سوال کر کے دیکھ لو کہ کیا مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں ہیں وہ کہیں گے نہیں پھر ان سے سوال کرو کہ کیا وہ احمدی ہیں وہ کہیں گے ہاں۔اب دوسری موٹی مثال اس کی میں یہ دیتا ہوں کہ اسی منبر پر کھڑے ہو کر میں نے مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی وفات پر اُن کا جنازہ پڑھنے کا علان کیا اور ساری جماعت کے ساتھ ان کا جنازہ پڑھا۔لیکن اس کے مقابلہ میں کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہم نے کسی غیر احمدی کا بھی کبھی جنازہ پڑھا۔ہم غیر احمدیوں کا جنازہ کبھی نہیں پڑھتے صرف احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں۔پس میرا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کا جنازہ پڑھنا بتاتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو جو خلیفہ وقت کی بیعت سے الگ ہو جائیں یا تی احمدی کہلا کر بیعت نہ کریں احمدی ہی سمجھتا ہوں۔اور مصری صاحب تو میرے متعلق یہ اعلان کر رہے ہیں کہ میں انہیں معزول کراؤں گا۔لیکن مولوی سید محمد احسن صاحب وہ تھے جنہوں نے میرے متعلق یہ اعلان کیا تھا کہ میں نے انہیں خلافت سے معزول کر دیا۔پس وہ ہماری جماعت سے الگ ہو چکے تھے۔مگر با وجود اس کے کہ وہ ہماری جماعت سے الگ تھے اور باوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعلق یہ اعلان کیا تھا کہ میں انہیں خلافت سے معزول کرتا ہوں، اُن کی وفات پر میں نے اُن کا جنازہ پڑھا اور یہ ہر شخص جانتا ہے کہ اگر ہم انہیں غیر احمدی سمجھتے تو کبھی ان کا جنازہ نہ پڑھتے۔لیکن جب میں نے مولوی سید محمد احسن صاحب کا جنازہ پڑھا تو اس کے معنے یہی تھے کہ میں ان کو احمدی سمجھتا ہوں۔پھر شیخ رحمت اللہ کی صاحب فوت ہوئے تو میں نے اُن کا جنازہ پڑھا، وہ بھی مبائع نہیں تھے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہ تھے میں نے ان کا جنازہ پڑھا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کسی شخص کے جماعت میں نہ ای