خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 266

خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۷ء وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ کرے گا۔کیا مصری صاحب یا ان کے ساتھی اس سے فائدہ کی اُٹھا ئیں گے؟ ا پھر یہی ملک غلام فرید صاحب اپنے اس خط میں لکھتے ہیں ” ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد مبارک کی وہ چھوٹی کھڑ کی جو بیت الفکر میں کھلتی ہے اور جس میں سے ہو کر خدا کے مسیح پاک مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے، اُس کے پاس آپ کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنا ہو وہ اس کھڑکی میں سے گزر جائے۔لوگ ایک ایک کر کے اندر جار ہے ہیں۔میں بھی اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آپ ہی اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔میں خواب میں حیران ہوتا ہوں کہ ان کو تو ( یعنی حضور کو ) میں باہر کھڑکی کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں اور اندر بھی خود ہی بیٹھے ہیں۔اس خواب نے بتا دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور میرا حال ایک ہی ہے اور جو اعتراض کی مجھ پر کیا جاتا ہے وہی اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی عائد ہوتا ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا تھا کہ ایک اعتراض محمود پر یہ پڑنے والا ہے کہ خواب میں اسے بائیں طرف دکھایا گیا ہے جو اس کے اصحاب الشمال میں سے ہونے کا ثبوت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بائیں طرف دکھا دیا اور اس طرح اعتراض کرنے والوں پر ظاہر کر دیا کہ اگر تم اپنے علم تعبیر کو صیح قرار دو گے اور اگر ایسی ناپاک اور گندی تعبیر کرنے سے باز نہیں آؤ گے تو یاد رکھو تمہیں محمود پر حملہ کرنے کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نَعُوذُ بِاللهِ جہنمی قرار دینا پڑے گا۔اب یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ چاہو تو صحیح راستہ اختیار کرو اور چاہو تو ٹیڑھا راستہ اختیار کر کے اپنے آپ کو ابدی ہلاکت میں ڈال لو۔M الفضل ۲۴ جولائی ۱۹۳۷ ء ) سائی: وہ تھوڑی سی رقم جو معاملہ طے ہو جانے کے بعد پیشگی دی جائے۔مسلم كتاب الامارة باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين۔۔۔۔الخ بوڈاپسٹ (BUDAPEST): ہنگری کا دارالحکومت۔یہاں پہلے دو رومی شہر آباد تھے جنہیں تاتاریوں نے تباہ کر دیا۔پہلی عالمی جنگ تک یورپ میں غلے کی اہم منڈی تھا۔جنگ کے بعد