خطبات محمود (جلد 18) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۷ء ہیں۔قادیان سے باہر جو لوگ جماعت سے خارج کئے جاتے ہیں ان سے بالعموم ملنا جلنا منع ہوتا ہے۔مگر قادیان میں ہی بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو جماعت سے خارج ہیں مگر لوگ ان سے ملتے ہیں۔تو یہ جو مقاطعہ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو ملنے سے روکا جاتا ہے یہ ایسے ہی مقامات پر کیا جاتا ہے جہاں یہ ثابت ہو جائے کہ اس شخص نے جماعت کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں۔پس جو لوگ خفیہ کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کے کاموں میں سازش کا دخل ہوتا ہے ان سے قطع تعلق کا حکم دیا جاتا ہے۔لیکن وہ شخص جس کا فعل انفرادی حیثیت رکھتا ہو اس کے متعلق سلسلہ بھی ایسا حکم نہیں دیتا۔غرض قطع تعلق کا اعلان انہی لوگوں کے متعلق کیا جاتا ہے جن کے فعل میں سازش پائی جاتی ہو اور یہ ثابت ہو کہ وہ خفیہ طور پر لوگوں کو اپنے ی ساتھ ملا کر جماعت میں فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔جیسے ۱۹۲۴ء میں بعض لوگوں کے بہائی ہونے پر ہم نے ان کے ساتھ تعلقات قطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ان کے متعلق یہ ثابت ہو گیا تھا کہ وہ ظاہر میں کی ہمارے ہم خیال تھے مگر اندر اندر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔چنانچہ دو تین آدمی انہوں نے اپنے ساتھ ملا بھی لئے تھے۔اسی طرح ہماری اور سزاؤں میں بھی فرق ہے۔مثلاً بعض کو جماعت سے خارج نہیں کیا جاتا صرف اُن سے مقاطعہ کا حکم دیا جاتا ہے جیسے در د صاحب جب لندن گئے اور اُس موقع پر بعض لڑکوں نے خلاف شریعت حرکات کیں تو اُن سے بولنا منع کر دیا گیا تھا مگر انہیں جماعت سے خارج نہیں کیا گیا اور اس قسم کا مقاطعہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے۔چنانچہ وہ لوگ جن کا وَعَلَى التَّلثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا میں ذکر کیا گیا ہے ان سے بولنا رسول کریم یا اللہ نے منع کر دیا تھا۔غرض نہ بولنے کی سزا اخراج از جماعت سے لازم ملزوم نہیں۔یہ اُسی وقت سزا دی جاتی ہے جب اختلاف کی تہہ میں خفیہ سازشیں کام کر رہی ہوں۔اب مصری صاحب نے مجھے جو خطوط لکھے ہیں ان میں صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ وہ لوگوں سے مل مل کر میرے خلاف مواد جمع کرتے رہے ہیں اور کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ کیس فخردین کے متعلق چلایا جاتا ہے اور نوٹس مصری صاحب دے کر بیعت سے الگ ہو جاتے ہیں۔ادھر مصری صاحب الگ ہوتے ہیں تو حکیم عبدالعزیز کہتا ہے میری بیعت بھی فتح سمجھیں۔صاف پتہ لگتا ہے کہ اندر ہی اندر کوئی سازش تھی جس کی وجہ سے جب ایک شخص جماعت سے الگ ہوا تو دوسروں نے بھی الگ ہونا ضروری سمجھا۔پھر کیا وہ باتیں جن کی وجہ سے وہ ایک عرصہ سے میرے پیچھے نماز بھی نہیں پڑتے تھے انہیں اُسی وقت معلوم ہوئیں جب میاں فخر دین ملتانی جماعت سے الگ ہوئے۔اگر نہیں بلکہ