خطبات محمود (جلد 18) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۷ء نیچے لانا ہے۔چنانچہ وہ اپنے اس خط میں جو ناظر صاحب امور عامہ کے جواب میں انہوں نے لکھا تحریر کرتے ہیں ” پہرہ داروں پر مجھے کوئی رنج نہیں ان کو ملزم گردانا غلطی ہے وہ تو ان کا موں کو کارِ ثواب سمجھ کر کر رہے ہیں۔عوام کو مذہب کی آڑ میں بھڑ کانے والا ان تمام افعال کا ذمہ دار ہوتا ہے جو عوام اس کے کی بھڑ کنے کے نتیجہ میں مشتعل ہو کر کرتے ہیں ان کے لیڈ رجس فعل کو مذہبی فعل قرار دے دیں اس فعل کو وہ عین ثواب اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔دوسرے لوگوں پر مخفی ہو تو ہولیکن ایک ناظر پر تو یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی۔ان الفاظ میں وہ یہ کہ رہے ہیں کہ میرے خلاف مذہب کی آڑ میں جماعت کو بھڑ کا دیا گیا ہے اور اگر اس سے مشتعل ہو کر کسی نے مجھ پر حملہ کر دیا تو اس کی ذمہ داری اسی پر ہوگی جو عوام کے جذبات کو بھڑکا رہا ہے۔پس جب اس قدر وہ جماعت احمدیہ کے افراد سے بدظن ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ افراد جماعت سے ان کی جان محفوظ نہیں تو اگر ہماری طرف سے یہ اجازت ہو جائے کہ احمدی دکاندار انہیں سودا دے دیا کریں تو کیا وہ الزامات نہیں لگا سکتے کہ مجھے دودھ میں زہر ملا کر دیا گیا ہے ، مٹھائی میں سنکھیا ڈال دیا گیا ہے اور آٹے میں زہر ملا دیا گیا ہے تا کہ اس کے کھانے سے میں ہلاک ہو جاؤں۔یہ وہ جی نتیجہ نہیں جو فرضی ہو بلکہ ان کے خط سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: آخر میں یہ بات بھی میں کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو کارروائیاں آپ میرے خلاف کر رہے ہیں ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شاید کسی دن میرے یا میرے اہل وعیال کی جان و مال پر حملہ ہو جائے۔اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری خود خلیفہ صاحب اور ان کے کارکنوں پر ہوگی کیونکہ عوام کے اندر جو نفرت اور اشتعال میرے خلاف میری طرف بے بنیاد اور غلط باتیں منسوب کر کے پیدا کیا جارہا ہے ، اس کے اصل محرک یا بانی یہی وجود ہیں۔پس اگر خود خلیفہ صاحب کی طرف سے اس بارہ میں مجھے تسلی نہ دلائی گئی تو میں مجبور ہوں گا کہ گزشتہ تمام واقعات کو حکام کے سامنے رکھ کر ان سے اپنی جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کروں اور ان کے علم میں لے آؤں کہ اگر مجھے یا میرے اہل و عیال کو کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری جناب خلیفہ صاحب اور ان کے کارکنوں پر ہوگی۔اس خط سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے ذہن میں آئندہ ایسے الزام لگانے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ قادیان کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ انہیں یہاں کوئی تکلیف نہیں اور وہ آزادی سے اکیلے گلیوں کی