خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ سال ۱۹۳۷ء کے قابل ہی نہ رہنے دے۔غرضیکہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔بہر حال یہ فتنہ ایک تو عارضی اور مقامی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقابلہ ہمارے علماء کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کب تک ان کو کرنا پڑے گا۔مگر ہر عارضی اور مقامی فساد کا ایک حصہ مستقل بھی ہوتا ہے۔مثلاً کھانسی ہے جب بھی کسی کو کھانسی ہو یہ خیال نہیں کر لینا چاہئے کہ گلے کی سوزش سے ہے بلکہ بعض اوقات جسم کی بناوٹ میں ہی کوئی ایسا نقص ہوتا ہے جس سے کھانسی دور نہیں ہوتی۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اس فتنہ کا کوئی مستقل اور وسیع پہلو بھی ہے یا نہیں اور اگر کوئی ہو تو اس کا بھی علاج کرنا چاہئے۔جس طرح کسی شخص کے مکان کی چھت ٹپکے تو اس کا عارضی علاج تو یہ ہے کہ نیچے بالٹیاں رکھ دی جائیں اور سامان وہاں سے ہٹا لیا جائے یا پھر چھت پر مٹی ڈال دی جائے۔مگر بعض اوقات بعض کڑیاں نی ہی گل چکی ہوتی ہیں اور چوہوں نے چھت کے اندر ایسے سوراخ بنالئے ہوتے ہیں جو او پر مٹی ڈالنے سے بند نہیں ہو سکتے اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ چھت کو درست کیا جائے۔اسی طرح اس فتنہ کے متعلق بھی چاہئے کہ ہم وسیع نظر ڈالیں اور حقیقی مرض کو معلوم کر کے اس کا علاج کریں اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا جو وسیع اور مستقل سبب ہو سکتا ہے اس پر بھی نظر ڈالوں تا جو مخلص دوست چاہتے ہیں کہ اس قسم کی خرابیاں پیدا نہ ہوں اس پر غور کر کے انہیں دور کرنے کیلئے تعاون کریں۔شریعت کے کئی احکامات ایسے ہوتے ہیں جن کی تفاصیل سے لوگ ناواقف ہوتے ہیں اور ان پر جب عمل کرتے ہیں تو بعض دفعہ نقصان ہوتا ہے اور ی پھر کہتے ہیں کہ شریعت کے احکام میں نقص ہے۔ہمارا صرف یہی فرض نہیں کہ بتائیں شریعت کا یہ حکم ہے بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ تفاصیل میں جائیں اور بتائیں کہ اور کیا احتیاطیں شریعت نے بتائی ہیں۔اگر ان سے واقف نہ کریں تو لوگ اس حکم کو غلط سمجھیں گے اور شریعت پر ان کو حسن ظن نہ رہے گی۔پس چیزوں کی حکمت کے ساتھ ان کی پیچیدگیاں بھی بیان کرنی ضروری ہیں اور علماء کا سب سے بڑا کام یہی ہے۔قرآن کریم نے علماء کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ كُونُوا رَبَّانِینَ یعنی تم کو مبلغ اور عالم ہی نہیں بلکہ ربانی بننا چاہئے۔یعنی ہر چیز کی ادنی سے لے کر اعلیٰ تک پیچیدگیاں ، خطرات ، اس کی خوبیاں اور نقصانات بیان کرو تا لوگوں کو روزِ روشن کی طرح معلوم ہو سکے کہ شریعت کا یہ منشا ہے۔مثلاً قرآن کریم نے لین دین کے متعلق کھول کھول کر احکام بیان کئے ہیں مگر ہماری جماعت کے نوے فیصدی لوگ ان تمام تفاصیل سے واقف نہیں ہیں اور یہ علماء کا فرض ہے کہ ان کو واقف کریں تا وہ دیکھ سکیں کہ قرآن کریم کے