خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 189

خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۳۷ء ہماری قبریں بھی چاندی کی کر کے دکھا دیں اور لوگوں کو بتا دیا کہ تم تو کہتے ہو یہ اپنی زندگی میں لوگوں کا روپیہ کھاتے ہیں اور ہم تو ان کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کو ان کے ذریعہ سے فیض پہنچائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ ہماری مٹی کو بھی چاندی بنارہا ہے اور تم اعتراضات سے اپنی چاندی کو بھی مٹی بنا رہے ہو۔چونکہ منافق عام طور پر پوشیدہ باتیں کرنے کا عادی ہوتا ہے اس لئے میں نے کھلے طور پر ان باتوں پر روشنی ڈال دی ہے ورنہ مجھے اس بات سے سخت شرم آتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کیلئے کچھ چندہ دوں اور پھر کہتا پھروں کہ میں نے اتنا چندہ دیا ہے۔مگر چونکہ یہ ایک سوال اُٹھایا گیا تھا اس لئے مجھے مجبور بتا نا ہے پڑا کہ اگر اپنے تمام خاندان کا چندہ ملا لیا جائے تو اس رقم سے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں نے کھالی، پانچ گنا زیادہ رقم ہم چندہ میں دے چکے ہیں اور جو ر تم صرف میرے اہل وعیال کی طرف سے خزانہ میں داخل ہوئی ہے ، وہ بھی اس سے زیادہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی عقلمند یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ ہم نے پانچ گنے زیادہ رقم اس لئے خرچ کی تا اس کا پانچواں حصہ کسی طرح کھا جائیں۔پس ان لوگوں کو جو یہ اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ کا خوف کرنا چاہئے اور اُس وقت سے پیشتر اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے جبکہ ان کا ایمان اُڑ جائے اور وہ دہریہ اور مرتد ہو کر مریں۔۲۱، بخاری کتاب الاذان باب فضل صلوة العشاء في الجماعة دار قطنی کتاب النکاح جلد ۲ صفحه ۱۳۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۴ء ه فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ الْضُّحَى : (١٠) ابوداؤد كتاب الطهارة باب المواضع التي نهى عن البول فيها الفضل ۲ جولائی ۱۹۳۷ ء )