خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 173

خطبات محمود ۱۷۳ سال ۱۹۳۷ء گناہ سے بچ نہیں سکتا۔لیکن متواتر میرے پاس ایسے کیس آئے ہیں اور گو عام طور پر وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں قادیان سے باہر رہنے والے لوگ مبتلا ہوتے ہیں یا بعض دفعہ قادیان کا کیس ہوتا ہے لیکن اس کی ابتدا باہر کی زندگی سے ہوئی ہوتی ہے لیکن بہر حال وہ قادیان کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ بعض لوگ عورتوں سے بغیر ان کے ماں باپ یا بھائیوں یا چھاؤں کی رضامندی کے محض عورت کی رضامندی دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور اسے بالکل جائز سمجھتے ہیں۔چونکہ عام طور پر زمینداروں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب لڑکی بالغ ہو جائے اور کسی جگہ وہ اپنی رضامندی کا اظہار کر دے تو ماں باپ یا بھائیوں یا چوں کی رضامندی کی ضرورت نہیں رہتی اس لئے وہ ایسی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور انہیں اپنے گھروں میں بسا لیتے ہیں حالانکہ اسلام نے ایسے نکاحوں کی ہرگز اجازت نہیں دی۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِي کے ولی کی رضا مندی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہوسکتا۔اول ولی جو شریعت نے مقرر کیا باپ ہے، باپ نہ ہو تو پھر بھائی ولی ہیں اور اگر بھائی نہ ہوں تو چچے ولی ہیں۔غرض قریب اور بعید کے جدی رشتے دار ایک دوسرے کے بعد ولی ہوتے چلے جاتے ہیں اور اگر کسی لڑکی کا باپ موجود ہو تو اُس کی اجازت کے بغیر سوائے مذہبی تبائن اور پھر قضا کی اجازت کے بغیر ہرگز نکاح جائز نہیں۔اگر باپ نہ ہو تو بھائیوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔اگر بھائی نہ ہوں تو چوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔ہاں اگر کوئی بھی جدی رشتہ دار موجود نہ ہو تو قاضی یا عدالت کی اجازت سے اُس لڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن اس کے بغیر جو نکاح ہواگر مسلمانوں نے کیا ہو تو اس کا نام اسلام نے نکاح نہیں بلکہ اُدھالا رکھا ہے۔ابھی چند دن ہوئے میرے پاس ایک کیس آیا۔چند غیر احمدی میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہماری لڑکی آپ کا ایک احمدی نکال کر لے آیا ہے۔اوّل تو میرے لئے یہی سننا سخت شرمندگی کا موجب تھا کہ ایک احمدی کسی کی لڑکی نکال لائے۔لیکن جب ایسے واقعات ہوں تو سننے ہی پڑتے ہیں۔میں نے بھی ان کے واقعات سنے اور ناظر صاحب امور عامہ کو چٹھی لکھی کہ اس لڑکی اور لڑکے کا پتہ لگایا جائے کہ آیا وہ یہاں ہیں یا نہیں۔تحقیق پر معلوم ہوا کہ وہ لڑکی یہاں ہے لیکن کسی گھر میں پوشیدہ ہے۔پرسوں رات میں سو چکا تھا بارہ ایک بجے کا وقت تھا چونکہ ہم گیارہ بارہ بجے کے درمیان سوتے ہیں اس لئے گو بارہ بجے کے بعد کا وقت ہوگا کہ کسی نے آکر مجھے جگایا اور کہا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے جو ناظر