خطبات محمود (جلد 18) — Page 16
خطبات محمود ۱۶ سال ۱۹۳۷ء ماہ پہلے ترکوں کے بچے دوست صرف روسی تھے۔جرمن بھی پہلے ان کے ساتھ تھے مگر اب چونکہ جرمنی کا اٹلی سے دوستانہ ہے اور اٹلی ترکی کے ایک علاقہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور ترکی سے اسے مخالفت ہوگئی ہے اس وجہ سے جرمنی بھی ترکی سے دور چلا گیا ہے۔روس کا فرانس سے معاہدہ ہو چکا ہے اس لئے روس بھی کی کا چکا اب ترکی کی مدد نہیں کر سکتا۔پس اس وقت ترکی کی حکومت بالکل بے یار و مددگار ہے ہم یہاں دور بیٹھے ہوئے حالات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہو سکتے مگر جہاں تک علم ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر تر کی حکومت یہ کام سال بھر بعد شروع کرتی یا سال بھر پہلے کرتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔اگر وہ حبشہ کی جنگ کے موقع پر کرتی یا پھر ۱۹۳۸ء میں کرتی تو زیادہ فائدہ میں رہتی۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔بہر حال ترکی حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر فرانس وہ علاقے واپس نہیں کرے گا یا لیگ کی معرفت کوئی مناسب سمجھوتا نہیں ہوگا تو ی ہم بزور شمشیر یہ علاقے لے لیں گے۔ترک ایک ایسی قوم ہے جس نے اسلام کے کئی پہلوؤں کو ترک کر دیا ہے مگر باوجود اس کے لا الہ الا اللہ کی صدائیں اب بھی ان کی مسجدوں سے آتی ہیں ، اب بھی ان کی کی نمازوں میں خدا تعالی کا کلام پڑھا جاتا ہے۔اب بھی وہ سُبحانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، اِنْشَاءَ الله اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتے ہیں۔اگر بعض باتوں میں وہ غلطی پر ہیں تو اسلام کی بعض باتوں پر وہ قائم بھی ہیں اس لئے ان کے دُکھوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔تمام اختلافات کے باوجود یہ ہو نہیں سکتا کہ ترک دُکھ میں ہوں اور ایک مسلمان کہلانے والا تکلیف محسوس نہ کرے۔اس لئے ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اگر ترک بہر حال لڑائی پر ہی آمادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے اور انہیں طاقت دے۔ان کی کی مثال یورپین حکومتوں میں ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان کی۔اور ایک بالشتیئے کی جو پہلوان سے لڑائی پر آمادہ ہو۔اس لئے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اول تو انہیں لڑائے سے بچائے اور اگر وہ لڑائی پر ہی آمادہ ہوں تو ان کی مدد کرے۔ایک فرانسیسی محمد رسول اللہ ﷺ کا منکر ہے اور ترک قائل ہے۔بیشک ترک کی حکومت سے محمد رسول اللہ ﷺ کی پوری حکومت قائم نہ ہولیکن ادھوری حکومت بھی بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے۔پس ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اگر لڑائی سے انہیں نقصان پہنچنا ہوتو اللہ تعالیٰ اس سے ان کو بچائے اور اگر اسی طرح ان کے حقوق حاصل ہو سکتے ہوں تو انہیں ہمت دے اور نہیں تو ہم ان کی دعا سے تو مدد کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ضرورت کے موقع پر چندے وغیرہ بھی دے سکتے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے بعض کنویں کے مینڈک زلزلہ کے مصیبت زدگان کیلئے چندہ پر بھی