خطبات محمود (جلد 18) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ سال ۱۹۳۷ء ایسا نہیں کیا مگر تم انصافا آپ ہی بتاؤ کہ جس وقت تمہارا پروسیشن نکل رہا ہوا اور تم محمد زندہ باد کے نعرے رہے ہو تو اُس وقت اگر کوئی شخص ابو جہل زندہ باد کا نعرہ لگا دے تو تمہارے تن بدن میں آگ لگ جائے گی یا نہیں؟ اگر لگ جائے گی تو تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہارے دشمن کے سینہ میں بھی دل ہے۔اور اُس کا دل بھی اُس وقت دکھتا ہے جب تم اُس کے مظاہرہ کے وقت میں مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہو۔پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے مُردہ باد نہیں کہا تھا ، زندہ با دکہا تھا۔سوال یہ نہیں کہ تم نے کیا کہا بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسے موقع پر زندہ باد کا نعرہ لگانا بھی دوسرے کو چڑانا اور اسے تکلیف دینا ہوتا ہے۔جس وقت تم اپنا پر وسیشن نکال رہے ہو اور سلسلہ کی تعریف میں نعرے لگا رہے ہو اس وقت اگر کوئی شخص سیکھرام زندہ باد یا ثناء اللہ زندہ باد کا نعرہ لگا دے تو ایمان سے کہو کہ تمہیں غصہ آئے گا یا نہیں ؟ آئے گا اور ضرور آئے گا۔پھر کیا تمہارے ہی سینہ میں دل ہیں اور تمہارے دشمن کے سینہ میں دل نہیں کہ تمہیں تو ایسے نعرے بُرے لگ سکتے ہیں مگر انہیں بُرے نہیں لگ سکتے ہیں۔میں تو حیران ہوتا ہوں جب میں یہ بحث سنتا ہوں کہ ہم نے مرزا غلام احمد زندہ باد کہا تھا لیکھرام مُردہ باد تو نہیں کہا تھا حالانکہ سوال زندہ باد کہنے کا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ زندہ باد کا نعرہ کس موقع پر لگایا تھا۔کیا وہ تمہارا جلسہ تھا؟ اگر تم اپنے جلسہ میں اس قسم کا نعرہ لگاتے تو یہ ایک معقول بات سمجھی جا سکتی تھی مگر غیر کے جلسہ یا جلوس میں نعرے لگا نا صریح اشتعال دلانے والی حرکت تھی۔پس یہ بحث ہی کیا ہوئی کہ ہم نے لیکھرام مُردہ باد نہیں کہا ، مرزا غلام احمد زندہ باد کہا۔اُس وقت مرزا غلام احمد زندہ باد کہنا بھی لیکھرام مُردہ باد کہنے کے مترادف تھا۔یا درکھو جب کوئی قوم اپنے کسی لیڈر کے اعزاز میں پر وسیشن نکال رہی ہو تو اس وقت تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اُس میں دخل دو اور اگر تم اپنے لئے یہ بات جائز سمجھتے ہو تو پھر دشمن کا بھی حق ہوگا کہ وہ تمہارے پر وسیشن میں لیکھرام زندہ باد کے نعرے لگائے۔میں یہ مانتا ہوں کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ لگایا گیا تھا انہوں نے جھوٹ بولا۔کیونکہ اس وقت تک کوئی گواہی ایسی نہیں ملی جس سے کی یہ الزام ثابت ہوا ہو۔علاوہ ازیں جب وہ شخص جس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے قسم کھا کر کہہ چکا ہے کہ میں نے اس قسم کا نعرہ نہیں لگایا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کی قسم کو تسلیم کریں۔پس یہ جو کہا گیا کہ احمدیوں کی طرف سے لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ لگایا گیا یہ جھوٹ کہا گیا اور اس میں کسی قسم کی سچائی نہیں۔یہ کہنا کہ پولیس کی ڈائری میں یہ لکھا ہوا ہے یہ بھی کوئی معقول ثبوت نہیں۔پولیس والے بیسیوں جھوٹ بول لیتے ہیں